.

قہوہ خانوں میں مبلغین، مذہب کی آگاہی کے لیے الازہر کا نیا رجحان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر میں الازہر یونی ورسٹی نے ایک نئے اقدام میں کئی مبلغین کو یہ ذمے داری سونپی ہے کہ وہ مقامات عامہ پر آنے جانے والے لوگوں کے اندر مذہبی آگاہی پیدا کریں اور ان کو وعظ و نصیحت کرکے ان کے سوالات کا جواب دیں۔

اس منصوبے پر عمل درامد کا آغاز اسکندریہ شہر سے "دعوت الی اللہ" کے عنوان کے ساتھ ہوا۔ جہاں الازہر کے مخصوص لباس میں ملبوس 4 مبلغین کے ایک گروپ نے العجمی کے علاقے میں کئی چائے اور قہوہ خانوں کا گشت کیا اور وہاں موجود افراد کے سامنے دین سے متعلق بیان کیا اور لوگوں کو اعتدال پسندی کے زاویے سے اسلامی تعلیمات کی تشریح کی۔ اس دوران شدت پسندی پر مبنی نظریات اور فتوؤں کا رد بھی کیا گیا۔

ابتدا میں اس اقدام کو دیکھ کر شہریوں کے اندر حیرت اور دہشت کے ملے جلے جذبات پیدا ہوئے تاہم پھر وہ مبلغین سے مانوس ہو کر ان کی بات سننے لگے اور ان کے سامنے اپنے ذہنوں میں موجود سوالات اور اشکالات بھی پیش کیے۔

گشت میں شامل الازہر کے ایک مبلغ یوسف رجب کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کے گشت کا خیال شیخ الازہر کی جانب سے پیش کیا گیا تھا جنہوں نے مقامات عامہ پر شہریوں کے درمیان پھیل جانے اور وہاں اسلام اور اس کی تعلیمات کے صحیح مفاہیم بیان کرنے اور غلط مفاہیم کی تصحیح کرنے کا مطالبہ کیا جس سے معاشرے کے اندر شدت پسند دہشت گرد سوچ پروان چڑھی۔

یوسف رجب کے مطابق ملاقاتوں کا دورانیہ 15 منٹ سے زیادہ نہیں رہا اور انہیں کسی جانب سے تنگ یا ہراساں نہیں کیا گیا۔ تقریبا ہر قہوہ خانے پر ان کا خیر مقدم کیا گیا سوائے 4 قہوہ خانوں کے مالکان کے جنہوں نے اس اقدام کو مسترد کردیا کیوں کہ ان کے خیال تھا کہ شاید مبلغین کا گروپ ان کے گاہکوں کو شیشہ پینے اور قہوہ خانوں میں بیٹھنے کی حرمت پر قائل کرنے آیا ہے۔

یوسف نے واضح کیا کہ شہریوں کی جانب سے پیش کردہ سوالات زیادہ تر طلاق ، میراث ، ازدواجی معاملات اور روزی سے متعلق تھے۔ مذکورہ مبلغ کے مطابق مستقبل میں الازہر اور سکیورٹی ڈائریکٹریٹس کے درمیان تعاون اور ہم آہنگی سے سڑک پر گشت کے اجازت نامے حاصل کیے جائیں گے تاکہ مبلغین کو کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔