.

کرکوک میں کرد پرچم لہرانے پر ایران کو اعتراض کیوں؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی وزارت خارجہ کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ شمالی عراق کے شہر کرکوک میں سرکاری عمارتوں پر عراق کے قومی پرچم کے ساتھ ساتھ کردوں کے پرچم لہرانے پر تہران کو سخت اعتراض ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق کرکوک میں کردوں کے نمائندہ پرچم لہرائے جانے پر اندرون اور بیرون ملک ایک نئی بحث شروع ہوگئی ہے۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان بہرام قاسمی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ان کا ملک کرکوک میں کردستان کا پرچم لہرائے جانے کے سخت خلاف ہے۔ یہ اقدام عراق کے دستور کے خلاف اور کشیدگی پیدا کرنے کا موجب بن سکتا ہے۔

ایرانی حکومت کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ان کا ملک شمالی عراق کے شہر کرکوک کو عراقی حکومت کی عمل داری کا حصہ سمجھتا ہے۔ کرکوک کی سرکاری عمارتوں پر کردستان کا پرچم لہرائے جانے سے ایک نیا تنازع پیدا ہوسکتا ہے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ ایران عراق میں کردوں کی مخالفت اس لیے کررہا ہے کیونکہ شام، ترکی اور عراق میں کردوں کا کوئی بھی اقدام ایرانی کردستان پر اثر انداز ہوتا ہے۔ ایرانی حکومت کئی عشروں سے ملک کے مغرب میں آباد کرد آبادی کے حقوق کا استحصال کررہی ہے۔

معمولی نوعیت کے الزامات کے تحت ایرانی رجیم کرد کارکنوں کو موت کے گھاٹ اتار دیتی ہے۔ گذشتہ برس انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں اور کردوں کی نمائندہ تنظیموں کی طرف سے تہران سرکار سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ وہ کردوں کے حقوق کا استحصال اور ان کی نسل کشی کا سلسلہ بند کرے۔

کرد آبادی ایران کے ساتھ ساتھ شام، عراق اور ترکی کے لیے بھی درد سر بنی ہوئی ہے۔ یہ تمام ممالک کردوں کی علاحدگی پسند تحریکوں کا سامنا کر رہے ہیں۔ ایران کی طرف سے کرکوک میں کرد پرچم لہرانے کی مخالفت کی وجہ کردوں کے خلاف تہران کی انتقامی سیاست کا منہ بولتا ثبوت ہے۔