.

موصل سے فرار کے بعد "داعش کا خلیفہ" کہاں روپوش ؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی ذمے داران کا کہنا ہے کہ تازہ ترین انٹیلی جنس رپورٹ کے مطابق امریکی افواج کو اس مقام کے بارے میں کوئی علم نہیں جہاں دہشت گرد تنظیم داعش کا سرغنہ ابوبکر البغدادی روپوش ہے۔

امریکی نیوز نیٹ ورک "ABC" کے انسداد دہشت گردی کے ایک اعلی اہل کار کا کہنا ہے کہ البغدادی اس وقت موصل میں موجود نہیں ہے اور اس کی حالیہ مقام یا موصل سے کوچ کرنے کے وقت کے بارے میں کوئی مصدقہ اطلاع نہیں ہے۔ اہل کار نے مزید بتایا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اقتدار سنبھالنے کے پہلے ہفتے سے ہی انسداد دہشت گردی کی امریکی ٹیمیں یہ سمجھ رہی تھیں کہ انہوں واقعتا داعش کے سرغنہ کی جگہ شناخت کر لی ہے اور یہ کہ اسے موصل کے اندر محصور کر لیا گیا ہے۔ تاہم تازہ ترین انٹیلی جنس رپورٹ نے اس خیال کو غلط ثابت کر دیا اور یہ کہ البغدادی اب موصل میں محصور نہیں۔

ایک دوسرے اعلی ذمے دار کا کہنا ہے کہ امریکی افواج کا خیال تھا کہ داعش کا سرغنہ شہر کی گنجان آباد سڑکوں کے بیچ کسی مذہبی نوعیت کے مقام پر چھپا ہوا ہے لہذا امریکی افواج شہریوں کی بڑی تعداد کی ہلاکت کے اندیشے اور اس مقام کی مذہبی حیثیت کے سبب اس جگہ کو نشانہ نہیں بنا سکیں۔

گزشتہ چند ماہ کے دوران امریکی افواج کو پورا یقین تھا کہ البغدادی ایک ہی جگہ پر روپوش ہے اور وہ متحرک نہیں ہے۔ امریکی ذمے داران نے ان میڈیا رپورٹوں کی تردید بھی کی جن میں دعوی کیا گیا تھا کہ البغدادی مسلسل طور اپنی جگہ تبدیل کر رہا ہے اور غالبا وہ شام میں داعش کے گڑھ الرقہ شہر منتقل ہو چکا ہے۔

یہ بات معروف ہے کہ داعش کا سرغنہ اپنے گرد کئی مسلح ذاتی محافظین رکھتا ہے جو بھاری ہتھیاروں اور بارودی بیلٹوں سے لیس ہوتے ہیں۔ اس وجہ سے البغدادی کو گرفتار کرنا انتہائی دشوار مسئلہ ہے۔

یاد رہے کہ البغدادی اب تک صرف ایک مرتبہ منظر عام پر آیا ہے جب 2014 میں اس نے موصل کی ایک مسجد میں خود کو تنظیم کا "خلیفہ" ہونے کا اعلان کیا تھا۔ اس انے اپنے آخری آڈیو پیغام میں اپنے پیروکاروں پر زور دیا تھا کہ وہ موصل کے دفاع کے لیے جان کی بازیں لگا دیں۔