.

خودکش بمبار کو کس بہادر اہلکار نے چرچ میں داخل ہونے سے روکا؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کے دوسرے بڑے شہر اسکندریہ میں ایک بہادر پولیس اہلکار عمادالركايبی نے اپنی جان دے کر قبطی عیسائیوں کے چرچ کو ایک بڑی تباہی سے بچایا ہے۔

اسکندریہ کے علاقے منشیہ میں واقع سینٹ مرقس چرچ میں اتوار کے روز پام سنڈے کی تقریب کے دوران میں ایک خودکش بمبار نے گھسنے کی کوشش کی تھی لیکن اس کو سکیورٹی اہلکاروں نے مرکزی دروازے پر روک لیا تھا اور اسے میٹل ڈیٹکٹر سے گزرنے کا کہا تھا۔اس دوران ہی اس نے خود کو دھماکے سے اڑا دیا تھا جس کے نتیجے میں سترہ افراد ہلاک اور پینتیس زخمی ہوگئے تھے۔

ان مہلوکین میں مصر کے چار سکیورٹی اہلکار بھی شامل ہیں جو گرجا گھر کے تحفظ پر مامور تھے۔ اگر وہ خودکش بمبار کو نہیں روکتے اور وہ چرچ کے اندر داخل ہونے میں کامیاب ہوجاتا تو اس سے زیادہ تباہی کا خطرہ تھا۔اس وقت چرچ میں قبطی عیسائیوں کے روحانی پیشوا پوپ تواضروس دوم بھی مذہبی تقریب میں شریک تھے۔

سکیورٹی فورسز کے ترجمان نے کہا ہے کہ پولیس اہلکار عمادالركايبی نے اپنی جان کا نذرانہ دے کر اور کمال بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے خودکش بمبار کو روکا تھا اور پھر اس بمبار نے وہیں خود کو دھماکے سے اڑا دیا تھا۔اس بم دھماکے میں چرچ کی سکیورٹی پر مامور اسکندریہ سکیورٹی ڈائریکٹوریٹ کے دو مرد پولیس افسر اور ایک خاتون افسر نے جان کی بازی ہاری ہے۔

ٹی وی چینلز پر اس خودکش بمبار کے دو کلپس نشر کیے گئے ہیں۔ان میں مشتبہ بمبار کو نیلے رنگ کی جرسی کاندھوں پر ڈالے ہوئے چلتے دیکھا جاسکتا ہے۔وہ سینٹ مرقس کیتھیڈرل کے مرکزی دروازے کی جانب بڑھ رہا ہے لیکن اس کو سکیورٹی اہلکار روک لیتے ہیں اور نزدیک واقع میٹل ڈیٹکٹر سے گزرنے کا کہتے ہیں۔وہ پھر میٹل ڈیٹکٹر میں سے گزرتا ہے اور اس دوران ہی اس جگہ زور دار دھماکا ہوجاتا ہے۔