.

امریکی عہدیدار کی لیبیا کی تین حصوں میں تقسیم کی تجویز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

برطانوی اخبار’گارجین‘ نے انکشاف کیا ہے کہ ایک امریکی عہدیدار نے لیبیا کو تین حصوں میں تقسیم کرنے کی تجویز پیش کی ہے۔ اخباری رپورٹ کے مطابق امریکی عہدیدار کا کہنا ہے کہ موجودہ لیبیا ماضی میں تین الگ الگ ریاستوں پر مشتمل تھا۔ اس لیے آج بھی اسے تین چھوٹی ریاستوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔

امریکی عہدیدار کی تجویزکے مطابق مغربی لیبیا کا مرکز طرابلس، مشرقی حصے کا برقہ اور فزان شہر کو جنوبی لیبیا کا مرکزی علاقہ قرار دیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق وائیٹ ہاؤس کے ایک سینیر عہدیدار جنہیں وزارت خارجہ کا اہم عہدیدہ سونپا گیا ہے نے ایک یورپی سفارت کار کی موجودگی میں لیبیا کا تین ملکوں میں تقسیم کا فارمولہ پیش کیا۔

اخبار نے یورپی سفارت کار کی شناخت ظاہر نہیں کی تاہم امریکی عہدیدار کا نام ’سیپاسٹیان گورکا بتایا ہے جو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مشیر خاص ہیں۔ انہوں نے یہ تجویز ڈونلڈ ٹرمپ کے اقتدار سنھبالنے سے قبل پیش کی تھی۔

اخباری رپورٹ کے مطابق مسٹر گورکا کے امریکا میں شدت پسند لابی کے ساتھ تعلقات کے باعث تنقید کا نشانہ بن چکے یہں۔ وہ اسلامی انتہا پسندی کے خلاف طاقت کے استعمال کا مطالبہ کرتے رہے ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پوری عہدیدار نے امریکی عہدیدار کی لیبیا کو تقسیم کی تجویز مسترد کردیا اور کہا کہ لیبیا کو ٹکڑوں میں تقسیم کرنا مسئلے کا سب سے بدترین حل ہوگا۔

‘گارجین‘ کے مطابق گورکا لیبیا کے لیے امریکی مندوب کے عہدے کے حصول کے لیے کوشاں ہیں۔ وہ اس وقت وائیٹ ہاؤس ہی میں ہیں تاہم یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ آیا ڈونلڈ ٹرمپ انہیں لیبیا کے لیے خصوصی ایلچی کا عہدہ دینے والے ہیں یا نہیں۔