.

ادلب میں ‘سیرین‘ گیس سے حملہ کیا گیا: ترکی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترک خبر رساں اداروں کے مطابق وزیر صحت رجب اقداگ نے دعویٰ کیا ہے کہ شام کے شمال مغربی شہر ادلب میں ایک مبینہ کیمیائی حملے کے زخمیوں کے طبی معائنے سے پتا چلا ہے کہ انہیں انتہائی مہلک ’سیرین‘ گیس سے نشناہ بنایا گیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کےمطابق ترک خبر رساں ادارے ’اناطولیہ‘ نے ترکی کے وزیر صحت رجب اقداگ کا بیان نقل کیا ہے۔ اس بیان میں انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ ادلب میں مبینہ کیمیائی حملے سے زخمی ہونے والے شامی شہری ترکی کے اسپتالوں میں زیرعلاج ہیں۔ ماہرین نے ان زخمیوں کے پیشاب اور خون کے نمونوں کا معائنہ کیا ہے۔ تحقیق سے پتا چلا ہے کہ ترکی لائے گئے شہری سیرین گیس کے استعمال سے زخمی ہوئے ہیں۔

زخمیوں کے خون اور پیشاب کے نموں سے آکسائیڈ مواد کی موجودگی کے شواہد ملے ہیں اور یہ مواد سیرین گیس میں پایا جاتا ہے۔

خیال رہے کہ گذشتہ ہفتے شام کے شمال مغربی شہر ادلب میں خان شیخون کے مقام پر ایک مبینہ کیمیائی حملے میں ایک سو کے قریب شہری جاں بحق ہوگئے تھے۔

امریکا نے الزام عاید کیا تھا کہ خان شیخون پر کیمیائی ہتھیاروں سے شامی فوج نے حملہ کیا ہے تاہم اسد رجیم نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کرنے سے انکار کردیا تھا۔