.

ترکی : کیمیائی ماہرین شام میں سیرین گیس کے حملے کی تحقیقات کریں گے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

کیمیائی ہتھیاروں کے امتناع کی تنظیم (او پی سی ڈبلیو) نے اپنے عالمی ماہرین کی ایک ٹیم ہیگ سے ترکی بھیجی ہے جو شام میں گذشتہ منگل کے روز سیرین گیس کے حملے کی تحقیقات کے لیے متاثرہ افراد سے نمونے اور شواہد اکٹھے کرے گی۔

ذرائع کے مطابق یہ تحقیقاتی مشن شام کے شمال مغربی صوبے ادلب میں واقع قصبے خان شیخون میں کیمیائی ہتھیاروں کے حملے میں متاثرہ افراد کے بائیو نمونے اور انٹرویوز لے گا ۔

اس حملے میں متعدد بچوں سمیت ستاسی افراد ہلاک ہوگئے تھے اور امریکا نے اس کے ردعمل میں حمص کے نزدیک شامی فوج کے ایک فضائی اڈے پر59 میزائل داغے تھے۔اس حملے کے بعد سے شام کے اتحادی روس اور امریکا کے درمیان تعلقات میں نئی کشیدگی پیدا ہوچکی ہے۔تاہم روس ادلب میں کیمیائی حملے سے کسی قسم کے تعلق کی تردید کر چکا ہے۔

او پی سی ڈبلیو کا مشن اس بات کا تعیّن کرے گا کہ آیا اس حملے میں کیمیائی ہتھیار استعمال کیے گئے تھے۔اس کو کسی پر حملے کا الزام عاید کرنے کا مینڈیٹ حاصل نہیں ہے۔وہ اپنی تحقیقاتی رپورٹ کو اقوام متحدہ اور او پی سی ڈبلیو کی مشترکہ ٹیم کو پیش کرے گا اور پھر وہ کیمیائی ہتھیار استعمال کرنے والے افراد اور اداروں کے ناموں کا تعیّن کرے گی۔

اب تک تحقیقات کار اس نتیجے پر پہنچ چکے ہیں کہ شام میں جاری خانہ جنگی کے دوران میں سیرین ،کلورین اور سلفرڈ مسٹرڈ گیسیں استعمال کی جا چکی ہیں۔صدر بشارالاسد کی وفادار فورسز نے کلورین گیس کا استعمال کیا ہے جبکہ داعش نے سلفر مسٹرڈ گیس کا استعمال کیا ہے۔

شام میں اگست 2013ء میں دارالحکومت دمشق کے نواحی علاقے الغوطہ میں سیرین گیس کے حملے کے بعد یہ سب سے تباہ کن کیمیائی حملہ تھا۔تب غوطہ میں کیمیائی حملے میں سیکڑوں شہری ہلاک ہوگئے تھے اور مغربی ممالک نے شامی حکومت کو اس حملے کا ذمے دار قرار دیا تھا لیکن اس نے الٹا باغیوں پر اس حملے کا الزام عاید کردیا تھا۔