.

اسرائیلی جیلوں میں سیکڑوں فلسطینیوں کی اجتماعی بھوک ہڑتال

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی جیلوں میں قید سیکڑوں فلسطینیوں نے اجتماعی بھوک ہڑتال کردی ہے۔ ان سے جیل میں قید معروف فلسطینی لیڈر مروان برغوثی نے اسرائیل کے خلاف احتجاج کے طور پر بھوک ہڑتال کی اپیل کی تھی۔

فلسطینی اتھارٹی کے قیدیوں کے امور کے سربراہ عیسیٰ قرق نے کہا ہے کہ قریباً تیرہ سو فلسطینی قیدی بھوک ہڑتال میں حصہ لے رہے ہیں اور یہ تعدد بڑھ سکتی ہے۔ایک غیر سرکاری تنظیم فلسطینی قیدی کلب نے بھوک ہڑتالی قیدیوں کی تعداد پندرہ سو بتائی ہے۔

اسرائیلی جیل سروس کے ترجمان عساف لبرٹی نے کہا ہے کہ ’’اتوار کے روز سات سو قیدیوں نے بھوک ہڑتال کا ارادہ ظاہر کیاتھا۔آج سوموار کی صبح سے ہم یہ دیکھ رہے ہیں کہ کل کتنے قیدیوں نے بھوک ہڑتال کی ہے کیونکہ بعض فلسطینی قیدیوں کا کہنا تھا کہ وہ علامتی بھوک ہڑتال کردیں گے اور پھر کھانا کھانا شروع کردیں گے‘‘۔

واضح رہے کہ مروان برغوثی اسرائیل کے خلاف دوسری انتفاضہ تحریک کے دوران میں کردار پر عمر قید کی سزا بھگت ہیں۔وہ فلسطینیوں میں بہت مقبول ہیں اور رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق وہ فلسطینی صدارت کا انتخاب بھی جیت سکتے ہیں۔

انھوں نے فلسطینی قیدیوں کے سالانہ دن کے موقع پر بھوک ہڑتال کی اپیل کی تھی۔اس وقت اسرائیلی جیلوں میں قریباً ساڑھے چھے ہزار فلسطینی مختلف الزامات کی پاداش میں قید ہیں اور ان میں زیادہ تر قابض اسرائیلی فورسز کی چیرہ دستیوں کی مزاحمت کی پاداش میں پکڑے گئے تھے۔

اس کے علاوہ انتظامی حراست کے متنازعہ قانون کے تحت اسرائیلی حکام فلسطینیوں کو کوئی مقدمہ چلائے بغیر چھے ماہ تک زیرحراست رکھ سکتے ہیں اور اس مدت میں عدالتی حکم پر مزید چھے ماہ کی توسیع کی جاسکتی ہے۔ یادرہے کہ یہ متنازعہ قانون برطانوی انتداب کے دور (1920ء سے 1948ء تک) سے تعلق رکھتا ہے اور اسرائیلی حکام اس قانون کا کسی بھی طرح کا احتجاج کرنے والے فلسطینیوں کو پس دیوار زنداں کرنے کے لیے عام استعمال کرتے رہتے ہیں۔