.

داعش کا عراقی فوج پر کیمیائی ہتھیاروں سے حملہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراقی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ ہفتے کے روز مغربی موصل میں آپریشن کے دوران شدت پسند تنظیم ’داعش‘ کی طرف سے عراقی فوج پر کیمیائی ہتھیاروں سے حملہ کیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق عراق کی جوائنٹ آپریشنل فورس کے زیرانتظام میڈیا وار سیل کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں الزام عاید کیا گیا ہے کہ داعشی جنگجو لڑائی کے دوران کیمیائی مواد استعمال کررہے ہیں۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ ہفتے کے روز عراقی فوج ’قادمون یا نینویٰ[اے نینویٰ ہم آ رہے ہیں] کے عنوان سے جاری آپریشن میں داعش کی طرف سے کیمیائی گیسوں سے تیار کردہ گولے داغے گئے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ داعش کے کیمیائی حملے کے نتیجے کئی فوجی زخمی ہوئے ہیں تاہم انہیں فوری طبی امداد فراہم کی گئی ہے۔ عراقی حکام کا کہنا ہے کہ داعش کی طرف سے استعمال کی گئی زہریلی گیس محدود نوعیت کے مہلک اثرات کی حامل تھی جس کے نتیجے میں زیادہ جانی نقصان نہیں ہوا ہے۔

عراقی فوج کا کہنا ہے کہ داعش کے خلاف جنگ پوری قوت کے ساتھ جاری ہے۔ فوج داعش کے ٹھکانوں کو تباہ کرنے کے ساتھ ساتھ اس کی دفاعی صلاحیت پر کاری ضرب لگا رہی ہے۔ داعش کی طرف سے کیمیائی حملوں کے خطرات کے مکمل تدارک اور دہشت گرد گروپ کے کچلے جانے تک جنگ جاری رکھی جائے گی۔

پرانے شہر پر نیا حملہ

عراق کے عسکری عہدیداروں کا کہنا ہے کہ پرانے موصل شہر میں داعش نے ایک بار پھر تازہ حملہ کیا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ داعش نے عراقی فوج کے زیرکنٹرول علاقوں کو دوبارہ قبضے میں لینے کی کوشش کی گئی ہے مگر فوج کی جوابی کارروائی میں داعش کا حملہ پسپا کردیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ داعشی جنگجوؤں نےعراق کے دوسرے بڑے شہر موصل پر سنہ 2014ء میں ایک ڈرامائی کارروائی کے دوران قبضہ کرلیا تھا۔ گذشتہ چھ ماہ سے عراقی فوج اس شہر کو داعش سے چھڑانے کے لیے آپریشن کر رہی ہے، شہر کا مشرقی حصہ داعش سے آزاد کرلیا گیا ہے۔

گذشتہ ایک ماہ سے عراقی فوج مغربی موصل میں کوئی اہم پیش رفت نہیں کرسکی کیونکہ داعشی جنگجو گنجان آبادی والے علاقوں میں قلعہ بند ہیں۔ تنگ گلیوں اور راستوں کے باعث ٹینکوں اور فوجی گاڑیوں کا اندر داخل ہونا ممکن نہیں۔

عراقی فیڈرل پولیس کے مطابق مشترکہ سیکیورٹٰ فورسز پرانے موصل شہر میں مسجد النوری کے قریب سے 200 میٹر اندر داخل ہوئی ہیں۔ تاہم مسجد النوری اس وقت بھی داعش ہی کے قبضے میں ہے۔ یہ مسجد داعش کے لیے علامتی حیثیت رکھتی ہے۔ داعش کے سربراہ ابو بکر البغدادی نے اسی مسجد سے ’خلافت شام وعراق‘ کا اعلان کیا تھا۔