.

شامی فوج نے حماہ صوبے کا اہم قصبہ باغیوں سے واپس لے لیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شامی فوج نے روسی فوج کی بھاری بمباری کی مدد سے مغربی شہر حماہ شہر کے قریب تزویراتی اہمیت کے حامل سوران قصبے کو دوبارہ اپنے تسلط میں لے لیا ہے۔

شامی باغیوں اور مقامی افراد کے مطابق باغی جنجگوئوں نے علی الصباح جنگی طیاروں کی بمباری کے بعد شامی فوج کی جانب سے قصبے پر دھاوا بولے جانے کے بعد علاقے سے پسپائی اختیار کرلی ہے۔

علاقے میں مضبوط موجودگی رکھنے والے باغی گروپ جیش العزہ کے ایک رکن کا کہنا تھا کہ "پورے علاقے پر 'جنونی' بمباری کی گئی اور باغیوں نے بھرپور طریقے سے لڑائی میں حصہ لیا مگر وہ پسپا ہونے پر مجبور ہوگئے۔"

باغیوں کے مطابق شامی فوج کو زمینی پیش قدمی میں ایران نواز شیعہ ملیشیائوں کی حمایت بھی حاصل تھی جو اس سے قبل بھی شامی فوج کے ہر معرکے کا حصہ رہی ہیں۔

سوران کا قصبہ شامی فوج کے لئے حماہ شہر میں داخل ہونے کا دروازہ ثابت ہوگا۔ اس سے قبل بھی شامی فوج اس قصبے پر قبضہ کرچکی تھی مگر باغیوں کے آخری حملے میں وہ اس اہم قصبے سے ہاتھ دھو بیٹھی تھی۔

باغیوں کا راکٹ حملہ

شامی باغیوں نے سوران پر قبضے کے جواب میں حماہ فوجی اڈے کے قریب متعدد راکٹ فائر کئے۔ ان حملوں کی وڈیوز سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر اپ لوڈ کی گئیں جن میں ایک فاصلے پر املاک سے دھواں اٹھتا نظر آرہا ہے۔

شامی گروپ جیش النصر کے مطابق اس نے ائیرپورٹ کو 40 راکٹوں سے نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں فوجی اڈے کے کمپائونڈ میں متعدد مقامات پر آگ لگ گئی تھی۔