.

شامی پناہ گرین قافلے پر حملے سے انخلاء کا عمل تعطل کا شکار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شامی حزب اختلاف کے ارکان کے مطابق چار مختلف علاقوں سے 3000 شامی شہریوں کے انخلاء کے عمل کو ایک قافلے پر حملے کے بعد موخر کردیا گیا ہے۔ اس سے قبل شامی صدر کے حامی پناہ گزینوں کے ایک قافلے کو بم دھماکے سے نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں 120 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

اس موقع پر اس تاخیر کی کسی وجہ کا باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا۔ اس اعلان کے وقت ہی دئیر الزور شہر میں داعش کی جانب سے گولہ باری کی گئی جس کے نتیجے میں علاقے کا دورہ کرنے والے دو روسی صحافی زخمی ہوگئے۔

روسی فوج کی 'انا' نیوز سروس کے مطابق دونوں صحافی اس کے ملازم ہیں۔ ان میں سے ایک کو بازو میں جبکہ دوسرے صحافی کو ٹانگ اور پیٹ پر زخم آئے ہیں۔ نیوز سروس کے مطابق دونوں روسیوں کو علاقے سے نکال لیا گیا ہے۔

اقوام متحدہ شام کے ان چار قصبات سے شہریوں کی منتقلی کے عمل کی نگرانی نہیں کر رہی ہے۔ شامی حکومت کے حامیوں کے قصبے فوا اور کفریا کے ساتھ ساتھ حزب اختلاف کے حامی مضایا اور الزبدانی کے شہری کئی سالوں سے محاصرے میں رہنے پر مجبور ہیں اور اب انہیں علاقے سے نکالا جا رہا ہے۔

برطانیہ میں قائم شامی آبزرویٹری برائے انسانی حقوق کے ڈائریکٹر رامی عبدالرحمان اور حزب اللہ کے المنار ٹی وی کے مطابق فوا اور کفریا سے 3000 افراد اور زبدانی اور مضایا سے 200 افراد کو منتقل کیا جائے گا۔

رامی عبدالرحمان کے مطابق ہفتے کے روز ہونے والے دھماکے کے نتیجے میں 126 افراد ہلاک ہوگئے تھے جن میں سے 109 کا تعلق فوا اور کفریا کے علاقوں سے تھا۔ ان ہلاک شدگان میں 80 بچے اور 13 خواتین شامل ہیں۔

اس دھماکے کی ذمہ داری ابھی تک کسی گروپ نے قبول نہیں کی ہے مگر اس سے قبل داعش اور القاعدہ نواز گروپ فتح الشام نے شامی حکومت کے زیر انتظام علاقوں پر حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے۔