.

اتحادی فوج نے تازہ فوجی دستے دیر الزورمیں اتار دیے

داعش نے بھی دیر الزور میں کمک روانہ کردی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام سےملنے والی اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ داعش کے خلاف سرگرم عالمی اتحادی فوج نے شام کے دیر الزور شہر میں فضاء سے مزید فوجی دستے اتارے ہیں۔

’سیرین نیٹ ورک‘ ویب سائیٹ کی رپورٹ کے مطابق اتحادی فوج کی طرف سے دیر الزور کے مشرقے علاقے میں نئے دستے اتارے ہیں تاہم ان کے بارے میں مزید معلومات نہیں مل سکی ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اتحادی ملکوں کے جنگی ہیلی کاپٹر دیر الزور کے مشرق میں فضاء میں واضح طور پردیکھے گئے ہیں۔

رضاکاروں نے ’شام نیٹ ورک‘ کو بتایا کہ اتحادی فوج کی طرف سے تازہ دم دستوں کے اتارے جانے کا ہدف دیر الزور کے مشرق میں ’T2‘ اسٹیشن ہوسکتا ہے۔ کیونکہ ’ٹی 2‘ اسٹیشن داعش کا اسلحہ سپلائی کا اہم مرکز ہونے کے ساتھ ساتھ وہاں پر اسلحہ اور گولہ بارود کا وسیع ذخیرہ اور داعش کے جنگجوؤں کی بڑی تعداد بھی موجود ہے۔

رضا کاروں کا کہنا ہے کہ دوسری طرف داعش نے بھی الکوینکو، الجفرہ اور التنک میں اپنے آئل فیلڈ کی حفاظت کے لیے تازہ کمک روانہ کی ہے۔ المیادین او، الشعیطات اور البوکمال کے اطراف میں داعش نے بڑے پیمانے پر موبائل چوکیاں بھی قائم کردی ہیں۔

درایں اثناء امریکی حکومت نے شام میں داعش کے خلاف سرگرم اتحادی فورسز کی ہرممکن مدد کی یقین دہانی کرائی ہے۔

امریکی صدر کے قومی سلامتی کے مشیر ہیربرٹ میکس ماسٹر نے کہا ہے کہ ان کا ملک شام میں دہشت گردوں اور داعش کے خلاف سرگرم اپنی اتحادی فورسز کی ہرممکن مدد کرے گا تاہم انہوں نے امریکا کی طرف سے شام میں داعش کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کے لیے 50 ہزار فوجی فراہم کرنے کی خبروں کی تردید کی۔

امریکا کی طرف سے یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا کی قیادت میں قائم عالمی اتحاد نے شام میں داعش کے گڑ الرقہ میں فیصلہ کن آپریشن کی تیاریاں شروع کر رکھی ہیں۔

میکس ماسٹر کا کہنا تھا کہ شام کے بحران کے حل کے لیے روس کے ساتھ مل کر موثربات چیت کی ضرورت ہے۔ اپنے ایک انٹرویوں میں امریکی قومی سلامتی کے مشیر کا کہنا تھا کہ اسد رجیم کی حمایت جاری رکھ کر روس نے شام میں جنگ کو تسلسل فراہم کیا ہے۔