.

بھوک ہڑتالی فلسطینیوں سے کوئی بات چیت نہیں ہوگی: اسرائیل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیل کے پبلک سکیورٹی کے وزیر گیلاد ایردان نے رعونت بھرے لہجے میں کہا ہے کہ بھوک ہڑتال کرنے والے سیکڑوں فلسطینی قیدیوں سے کوئی بات چیت نہیں کی جائے گی۔

اسرائیلی جیلوں میں قید سیکڑوں فلسطینیوں نے اپنے مطالبات کے حق میں اجتماعی بھوک ہڑتال کررکھی ہے اور آج منگل کو اس کا دوسرا دن ہے۔ ان سے جیل میں قید مقبول فلسطینی لیڈر مروان البرغوثی نے اسرائیل کے خلاف احتجاج کے طور پر بھوک ہڑتال کی اپیل کی تھی۔ انھوں نے اپنے مطالبات کی ایک فہرست بھی جاری کی ہے اور اسرائیلی حکام سے بہتر طبی سہولتوں سے لے کر ٹیلی فون مہیا کرنے تک مختلف مطالبات کیے ہیں۔

مسٹر ایردان نے ایک بیان میں کہا ہے کہ’’ اسرائیلی حکام ان قیدیوں سے کوئی مذاکرات نہیں کریں گے۔مروان البرغوثی کو ایک اور جیل میں منتقل کردیا گیا ہے اور وہاں انھیں قید تنہائی میں ڈال دیا گیا ہے‘‘۔

اسرائیلی وزیر نے آرمی ریڈیو سے گفتگو کرتے ہوئے کہ کہ ’’ یہ (فلسطینی )دہشت گرد اور قاتل ہیں اور یہ جس چیز کے حق دار ہیں،وہ انھیں دی جارہی ہے،اس لیے ان کے ساتھ مذاکرات کا جواز نہیں ہے‘‘۔

واضح رہے کہ فتح تحریک کے رہ نما مروان البرغوثی اسرائیل کے خلاف دوسری انتفاضہ تحریک کے دوران میں کردار پر پانچ مرتبہ عمر قید کی سزا بھگت ہیں۔وہ فلسطینیوں میں بہت مقبول لیڈر ہیں اور رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق وہ جیل میں قید ہونے کے باوجود فلسطینی صدارت کا انتخاب بھی جیت سکتے ہیں۔انھوں نے سوموار کو فلسطینی قیدیوں کے سالانہ دن کے موقع پر ان سے بھوک ہڑتال کی اپیل کی تھی۔

مروان البرغوثی نے امریکی اخبار نیویارک ٹائمز میں شائع شدہ ایک تحریر میں لکھا ہے:’’ عشروں کے تجربے نے یہ بات ثابت کردی ہے کہ اسرائیل کے غیر انسانی نو آبادی نظام اور فوجی قبضے کا مقصد قیدیوں اور ان کی قوم کے عزم اور جذبے کو توڑنا ہے۔انھیں جسمانی تکلیفیں پہنچائی جاتی ہیں ،ان کے خاندانوں اور آبادیوں سے جدا کیا جاتا ہے اور انھیں دبانے کے لیے جبر وتشدد کے انسانیت سوز حربے آزمائے جاتے ہیں لیکن اس طرح کے سلوک کے باوجود ہم جھکیں گے نہیں‘‘۔

فلسطینی اتھارٹی کے قیدیوں کے امور کے سربراہ عیسیٰ قرق نے گذشتہ روز ایک بیان میں کہا تھا کہ قریباً تیرہ سو فلسطینی قیدی بھوک ہڑتال میں حصہ لے رہے ہیں اور یہ تعدد بڑھ سکتی ہے۔ایک غیر سرکاری تنظیم فلسطینی قیدی کلب نے بھوک ہڑتالی قیدیوں کی تعداد پندرہ سو بتائی تھی۔

اس وقت اسرائیلی جیلوں میں قریباً ساڑھے چھے ہزار فلسطینی مختلف الزامات کی پاداش میں قید ہیں اور ان میں زیادہ تر قابض اسرائیلی فورسز کی چیرہ دستیوں کی مزاحمت کی پاداش میں پکڑے گئے تھے۔ ان میں باسٹھ خواتین اور تین سو کم عمر بچے بھی شامل ہیں۔

اس کے علاوہ اسرائیلی فورسز نے پانچ سو فلسطینیوں کو انتظامی حراست کے متنازعہ قانون کے تحت جیلوں میں بند کررکھا ہے۔اسرائیلی حکام فلسطینیوں کو کوئی مقدمہ چلائے بغیر چھے ماہ تک زیرحراست رکھ سکتے ہیں اور اس مدت میں عدالتی حکم پر مزید چھے ماہ کی توسیع کی جا سکتی ہے۔ یادرہے کہ یہ متنازعہ قانون برطانوی انتداب کے دور (1920ء سے 1948ء تک) سے تعلق رکھتا ہے اور اسرائیلی حکام اس قانون کا کسی بھی طرح کا احتجاج کرنے والے فلسطینیوں کو پس دیوار زنداں کرنے کے لیے عام استعمال کرتے رہتے ہیں۔