.

مصرمیں افراتفری،ایران کی اخوان کواسلحہ کی فراہمی کا انکشاف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصرکی حکومت نے دعویٰ کیا ہے کہ ملک میں بدامنی پھیلانے اور امن وامان کو تباہ کرنے کے لیے ایران کالعدم مذہبی جماعت اخوان المسلمون کو اسلحہ اور گولہ بارود فراہم کررہا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق اتوار کےروز مصری وزارت خارجہ کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ پولیس نے تفتیش کےدوران اخوان المسلمون کے ماتحت ایک غیرمعمولی مسلح دہشت گرد سیل کا پتا چلایا ہے جو ملک کے کئی شہروں میں منظم انداز میں سرگرم ہے۔ البحیرہ اور اسکندریہ شہروں میں اس خفیہ سیل نے دو فارم ہاؤس میں بڑے پیمانے پر اسلحہ اور گولہ بارود بھی چھپا رکھا تھا۔ حیران کن بات یہ ہے کہ یہ اسلحہ اور گولہ بارود ایران کی طرف سے فراہم کیا گیا ہے جس پر فارسی زبان میں ’ایرانی ساختہ‘ لکھا گیا ہے۔

مصری وزارت داخلہ کے مطابق قبضے میں لیے گئے دھماکہ خیز مواد میں ’سی ڈی رکس‘ نامی انتہائی خطرناک بارود بھی شامل ہے جسے بموں، بارودی سرنگوں اور دیگر تباہ کن دھماکوں کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ اس کے علاوہ دستی بم اور دیگر تیار شدہ اسلحہ بھی ملا ہے جس پر فارسی میں عبارتیں لکھی گئی ہیں۔

مصری وزارت داخلہ کےایک ذریعے نے ’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘ سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ملک کے مختلف شہروں سے پکڑا گیا اسلحہ اور بارود اس بات کا کھلا ثبوت ہے کہ ایران اور اخوان المسلمون کے درمیان گہرے مراسم ہیں اور وہ مل کر مصر کا امن سبوتاژ کرنا چاہتے ہیں۔

حکومتی ذریعے کا کہنا ہے کہ ایران اخوان کو نہ صرف اسلحہ فراہم کررہا ہے بلکہ اپنے مذموم مقاصد اور دہشت گردی کے لیے اخوانی دہشت گردوں کو رقوم بھی فراہم کرتا ہے تاکہ وہ ریاست کو زیادہ سےزیادہ نقصان پہنچا سکیں۔

ایران اور داعش کے درمیان مربوط تعلق

مصری تجزیہ نگار خالد عکاشہ نے ’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران کی طرف سے اخوان المسلمون کے شدت پسندوں کو اسلحہ اور رقوم کی فراہمی کوئی حیرانی کی بات نہیں۔ ایران بڑے بڑے عالمی دہشت گردوں کی مالی اور اسلحی مدد کر رہاہے۔ انہوں نے کہا یہ بات ریکارڈ پرآچکی ہے کہ ایران دولت اسلامی ’داعش‘ کو اسلحہ اور رقوم فراہم کرتا ہے۔ اس سے پہلے ایران پر القاعدہ کی مادی اور معنودی امداد کا الزام عاید کیا جا چکا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں خالد عکاشہ کا کہنا تھا کہ ایران کی طرف سے اخوان کو اسلحہ کی فراہمی مفت میں نہیں ہو رہی ہے۔ ایران کو سخت عالمی اقتصادی دباؤ کا سامنا ہے اور اس دباؤ کے بعد تہران اپنا اسلحہ دنیا بھر میں ان عناصر کو فروخت کرنے کے لیے کوشاں ہے جو اپنے اپنے ملکوں میں دہشت گردی میں ملوث ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مصری فوج نے جزیرہ سیناء میں جاری فوجی آپریشن کے دوران بھی ایرانی ساختہ اسلحہ کی بھاری مقدار قبضے میں لی ہے۔ حال ہی میں داعش کی جانب سے جزیرہ سینا میں مصری فوجیوں پر حملے کی ایک فوٹیج جاری کی گئی تو اس فوٹیج میں دکھائے جنگجوؤں کے ہاتھوں میں ایرانی ساختہ ’ای ایم 50‘ بندوقیں دیکھی جاسکتی ہیں۔ یہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ ایران اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل کے لیے دہشت گرد عناصر کو اسلحہ فراہم کررہا ہے۔

حال ہی میں اسرائیلی سیکیورٹی اداروں کی طرف سے بھی دعویٰ کیا گیا تھا کہ ایران کے اسلحہ سے لدے دو جہاز عالمی سمندری حدود میں داخل ہوئے ہیں۔ ایک جہاز لیبیا اور دوسرا جزیرہ نما سینا کی طرف اسلحہ لےکر جاتا دیکھا گیا تھا۔