.

فلسطینی اسیررہ نما کے وکلاء سے ملنے پرپابندی کا فیصلہ واپس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی جیل انتظامیہ نے تحریک ’فتح‘ کے اسیر رہ نما اور رکن پارلیمنٹ مروان البرغوثی کی بھوک ہڑتال شروع کرنے کے بعد وکلاء سے ملاقات پر عاید پابندی کا فیصلہ واپس لے لیا ہے جس کے بعد ان کے وکلاء کو جیل میں ان سے ملنے کی اجازت دے دی گئی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق اسرائیلی انتظامیہ کی طرف سے مروان البرغوثی کے وکلا عبیر بکر اور الیاس صباغ کو ٹیلیفون پر بتایا گیا ہے کہ وہ اپنے موکل سے جیل میں ملاقات کرسکتے ہیں۔

ایڈووکیٹ الیاس صباح نے’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘ سے بات کرتےہوئے تصدیق کی کہ انہیں ان کے موکل مروان البرغوثی سے ملنے کی اجازت دے دی گئی ہے۔

صباغ کاکہنا ہے کہ صہیونی جیل انتظامیہ گذشتہ بدھ سے مروان البرغوثی سے ملاقات کے معاملے میں ٹال مٹول سے کام لے رہی تھی۔ انہیں بتایا گیا تھا کہ بھوک ہڑتال کرنے والے فلسطینی اسیران کو ان کے وکلاء سے ملنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

ادھر دوسری جانب فلسطینی اسیران کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم کلب برائے اسیران نے اسرائیلی سپریم کورٹ میں ایک درخواست دائر کی ہے جس میں اسیران اور ان کے وکلاء کے درمیان ملاقات پر پابندی کا فیصلہ چیلنج کیا گیا ہے۔

خاتون وکیل عبیر بکرنے’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘ کو بتایا کہ ہم نے پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ اسیران کو ان کے وکیلوں سے ملنے پر پابندی کے اسرائیلی فیصلے کی کوئی قانونی حیثیت نہیں۔ معاملہ چاہے مروان البرغوثی کا ہو یا کسی دوسرے اسیر کا ہو۔ اسرائیل کسی بھی فلسطینی اسیر کو اس کے متعلقہ وکیل سے ملاقات سے نہیں روک سکتا۔

خیال رہے کہ 1500 فلسطینی اسیران نے 17 اپریل کو ملک میں ’یوم اسیران‘ کے موقع پر اسرائیلی مظالم کے خلاف اور بنیادی حقوق کے حصول کے بہ طور احتجاج غیرمعینہ مدت کے لیے بھوک ہڑتال شروع کی تھی۔ اسرائیلی جیل انتظامیہ نے بھوک ہڑتالی اسیران کے خلاف انتقامی ہتھکنڈوں کا استعمال بھی جاری رکھا ہوا ہے۔ اسیران کی ان کے وکلاء پرپابندی بھی بھوک ہڑتال پر انتقامی حربہ ہے، جسے انسانی حقوق کی تنظیموں نے یکسر مسترد کردیا ہے۔