.

عراقی فورسز کا تاریخی شہر الحضر پر قبضہ ،داعش کو شکست

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کی حکومت نواز فورسز نے یونیسکو کے قرار دیے گئے تاریخی ثقافتی شہر الحضر پر قبضہ کر لیا ہے اور وہاں سے سخت گیر جنگجو گروپ داعش کو شکست سے دوچار کرنے کے بعد مار بھگانے کا دعویٰ کیا ہے۔

نیم فوجی دستوں پر مشتمل حشد الشعبی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اس نے تاریخی شہر الحضر کو دشمن کے خلاف شدید لڑائی کے بعد آزاد کرا لیا ہے۔

بیان کے مطابق حشد الشعبی نے منگل کے روز الحضر کے جدید حصے پر قبضے کے لیے تین اطراف سے بھرپور حملہ کیا تھا اور انھوں نے داعش کی مزاحمت کا خاتمہ کردیا ہے۔

واضح رہے کہ حشد الشعبی پہلے مختلف شیعہ ملیشیاؤں پر مشتمل جنگجوؤں کا اتحاد تھا۔ پھر انھیں ایک متنازعہ قانون کے تحت وزارت دفاع کے تحت فورسز میں ضم کردیا گیا تھا اور اب ان کی حیثیت نیم فوجی دستوں کی ہے۔

الحضر عراق کے شمالی شہر موصل سے قریباً 125 کلومیٹر جنوب مغرب میں صحرا میں واقع ہے اور اس کو یونیسکو نے عالمی ثقافتی شہر قرار دے رکھا ہے اور اس کے تاریخی آثار کو عالمی ورثے میں شامل کررکھا ہے۔ داعش نے 2014ء میں اس شہر پر قبضے کے بعد بہت سے تاریخی آثار اور انمول نوادرات کو تباہ کردیا تھا۔ تاہم داعش کے جنگجوؤں نے الحضر میں تاریخی آثار کو کہاں تک نقصان پہنچایا ہے،یہ ابھی واضح نہیں ہے۔

یاد رہے کہ الحضر شہر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش سے دو سے تین صدی قبل تعمیر کیا گیا تھا۔یہ قدیم ایران کی بارثیہ سلطنت کے زمانے میں ایک مذہبی اور تجارتی مرکز بن گیا تھا۔قدیم شہر قلعہ نما تھا اور اس کی بلند وبالا فصیلیں تھیں۔ان کی وجہ سے دو رومی بادشاہ محاصرے کے باوجود اس شہر پر قبضے میں ناکام رہے تھے۔

الحضر پر ساسانی سلطنت کے بانی ارد شیر اول نے قبضہ کر لیا تھا لیکن صدیاں گزر جانے کے باوجود بھی اس کے تاریخی آثار کی حفاظت کی جاتی رہی تھی۔