.

’’داعش شکست کے باوجود نئے ہتھیار تیار کررہے ہیں‘‘

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

داعش کے جنگجوؤں نے ایک ایسی دھماکا خیز ڈیوائس تیار کر لی ہے جس کو بندوق کے ذریعے چلایا جا سکتا ہے یا پھر بغیر پائیلٹ طیارے ڈرون سے مطلوبہ ہدف پر گرایا جاسکتا ہے۔

اس بات کا انکشاف تنازعات میں اسلحے کی مانیٹرنگ اور تحقیق کرنے والے ایک گروپ (کار) نے بدھ کو جاری کردہ اپنی ایک رپورٹ میں کیا ہے۔

کار کا کہنا ہے کہ یہ جنگجو گروپ اپنے مزاحمت کاروں کو مہیا کرنے کے لیے ایسے ہتھیار تیار کر رہا ہے جو عام طور پر دستیاب نہیں ہوتے ہیں۔

کار نے گذشتہ سال نومبر ،فروری اور مارچ میں موصل کے دورے کے بعد یہ رپورٹ مرتب کی تھی اور اس کو اب جاری کیا ہے۔اس نے بتایا ہے کہ ’’ دھماکا خیز مواد ( آئی ای ڈی) کو ایک رائفل کے ساتھ لگا کر چلایا جاسکتا ہے یا پھر بغیر پائیلٹ طیارے یا ڈرون سے گرایا جاسکتا ہے‘‘۔

کار جنگی علاقوں میں استعمال کیے جانے والے اسلحے اور ہتھیاروں کی شناخت کرتی اور ان کا سراغ لگاتی ہے۔اس نے دسمبر میں یہ اطلاع دی تھی کہ داعش تنظیم ایک قومی فوج کی سطح کے جدید ہتھیار تیار کررہی ہے اور اس نے اسلحے کی پیداوار کو بھی معیاری بنا لیا ہے۔

اس مانیٹرنگ گروپ نے اپنے تجزیے میں کہا تھا کہ داعش دھماکا خیز ہتھیاروں کے ڈیزائن اور تیاری پر کام کررہے تھے۔وہ میدان جنگ میں ان کے تجربے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور ان تجربات کی روشنی میں ان ہتھیاروں کو بہتر بنا سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ وہ ڈرون سمیت جدید ٹیکنالوجی استعمال کرنے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔

رپورٹ یہ بھی بتاتی ہے کہ داعش موصل کے میدان جنگ کو عراقی فورسز کے خلاف مختلف اقسام کے ہتھیاروں کے تجربات کے لیے استعمال کررہے ہیں اور یہ کسی بھی ہتھیار کی تحقیق اور ترقی کے پروگرام کے لیے ایک اہم قدم ہے۔

کار سنہ 2014ء سے داعشی فورسز کے ہتھیاروں کی تحقیق اور ترقی سے متعلق شواہد اکٹھے کررہی ہے۔ان سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ داعش ڈرون کے علاوہ دوسری ایجادات پر اپنی توجہ مرکوز رکھیں گے اور وہ اپنے تیار کردہ ان ہتھیاروں کو عراق کے سوا دوسرے علاقوں میں تجربے کے طور پر استعمال کرسکتے ہیں۔