.

‘میسی‘ نام رکھنے پرداعش نے تین سالہ بچہ دو سال قید میں رکھا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام اور عراق میں اپنی نام نہاد خلافت قائم کرنے کی دعوے دار شدت پسند تنظیم ’داعش‘ کے مظام کسی سے ڈھکے چھپے نہیں۔ آئے روز تنظیم کے جرائم کی اندوہناک کہانیاں سامنے آتی ہیں۔

اس سلسلے کی تازہ کڑی حال ہی میں عراق میں اس وقت سامنے آئی جب داعش کے چنگل میں قید ایک تین سالہ بچے کو دو سال قید کے بعد رہا کیا گیا۔ یہ تین سالہ بچہ کوئی دہشت گرد یا داعش مخالف فوج کا سپاہی تو ہو نہیں سکتا۔ اس کا جرم صرف یہ تھا کہ اس کے والدین نے اس کا نام معروف اسپانوی فٹ بالر ’لیونیل میسی‘ کے نام کی مناسبت سے ’میسی‘ رکھ دیا تھا۔

اخبار ڈیلی میل کے مطابق ننھے میسی کی رہائی حال ہی میں عراق میں داعش کے خلاف جنگ شدت اختیار کرنے کے بعد عمل میں لائی گئی تھی۔ بچے کا تعلق شمالی عراق کے سنجار علاقے میں آباد یزیدی قبیلے سے ہے۔ اس وقت بچے کی عمر پانچ سال ہے جب کہ اسے تین سال کی عمر میں حراست میں لے کر قید میں رکھا گیا تھا۔

اخباری رپورٹ کے مطابق چھوٹے میسی کو سنہ 2014ء میں سنجار کے علاقے میں داعش کے قبضے کے بعد لیا گیا تھا۔ داعشی دہشت گردوں نے سنجار کے علاقے میں مقامی آبادی کے وحشیانہ قتل عام، خواتین کی اجتماعی عصمت ریزی کے ساتھ ساتھ سیکڑوں مردو ، خواتین اور بچوں کو یرغمال بنا لیا تھا۔ یرغمال بنائے جانے والے شہریوں میں دو سالہ میسی بھی شامل تھا۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ داعشی جنگجو میسی کے والدین سے بچے کی رہائی کے لیے تاوان کا مطالبہ کرتے رہے ہیں مگر ان کے پاس شدت پسندوں کو دینے کے لیے کچھ نہیں تھا۔ اس لیے وہ بیٹے کی رہائی کے لیے تاوان ادا نہیں کرسکے۔

عراق کے کرد ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق میسی کے والد نے اپنی بیوی کی مشورے سے بچے کا نام تبدی کر کے حسن رکھا ہے۔ نام تبدیل کرنے کا مقصد داعش کے غیض وغضب سے بچنا ہے۔