.

دمشق میں دھماکا صہیونی ریاست کی پالیسی کے مطابق ہے : اسرائیلی وزیر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیل کے سراغرسانی کے وزیر یسرائیل کاٹز نے کہا ہے کہ شامی دارالحکومت دمشق کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کے نزدیک بہت بڑا دھماکا ان کے ملک کی پالیسی کے عین مطابق ہے لیکن انھوں نے اس امر کی تصدیق نہیں کی ہے کہ اس دھماکے کے پیچھے صہیونی فوج کا ہاتھ ہے۔

مسٹر کاٹز نے جمعرات کے روز آرمی ریڈیو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’ ہم شام سے ایران کی جانب سے لبنان میں حزب اللہ کو جدید ہتھیاروں کی منتقلی کو روکنے کے لیے کارروائی کررہے ہیں‘‘۔

صہیونی وزیر نے مزید کہا :’’ ہمیں جب کبھی حزب اللہ کو ہتھیار منتقل کرنے کی سنجیدہ اطلاع ملے گی تو ہم (ایسی ہی) کارروائی کریں گے۔یہ واقعہ اس پالیسی کے عین مطابق ہے‘‘۔ اسرائیلی فوج نے حسب معمول اپنی پالیسی کے عین مطابق اس فضائی حملے کے بارے میں کوئی بیان جاری نہیں کیا ہے۔

اسرائیلی لڑاکا طیارے ماضی میں بھی دمشق کے ہوائی اڈے اور اس کے نزدیک واقع فوجی تنصیبات اور اڈوں کو محض اس شبے میں فضائی حملوں میں نشانہ بناتے رہے ہیں کہ وہاں لبنان کی شیعہ ملیشیا حزب اللہ نے ہتھیار ذخیرہ کررکھے تھے یا اس کو شام سے ہتھیار منتقل کیے جارہے تھے۔

اسرائیل نے شام میں گذشتہ چھے سال سے جاری خانہ جنگی میں براہ راست ملوث ہونے سے گریز کیا ہے۔البتہ اس نے وہاں حزب اللہ کو جدید ہتھیاروں کی منتقلی روکنے کے نام پر ماضی میں کیے گئے فضائی حملوں کو تسلیم کیا تھا۔

گذشتہ ماہ اسرائیلی لڑاکا طیاروں نے شام میں مختلف اہداف کو نشانہ بنایا تھا اور اس کے جواب میں شام نے بھی اسرائیل کی جانب میزائل فائر کیے تھے۔ اسرائیل نے شام کی حدود سے چلائے گئے روسی ساختہ ایس اے 5 میزائل کو اپنے میزائل دفاعی نظام تیر کے ذریعے تباہ کردیا تھا۔تب اسرائیل کے انتہا پسند وزیردفاع ایویگڈور لائبرمین نے دھمکی دی تھی کہ اگر دوبارہ ایسا کوئی واقعہ رونما ہوا تو کسی تردد کے بغیر شام کے فضائی دفاعی نظام کو تباہ کردیا جائے گا۔