.

خان شیخون کیمیائی حملہ: شامی حکومت اور روس کے دعوؤں کا پول کھل گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی اخبار "نیویارک ٹائمز" نے شامی حکومت اور روس کی اُن جملہ صفائیوں اور جوازوں کو جھٹلا دیا ہے جو فریقین نے خان شیخون میں کیمیائی حملے کی ذمے داری سے متعلق خود پر عائد الزامات کی تردید کے واسطے گھڑے تھے۔

اخبار نے ایک تفصیلی رپورٹ میں ایسے قرائن اور دلائل پیش کیے ہیں جو حملے کے وقت ، ٹھکانوں اور استعمال کیے جانے والے ہتھیاروں سے متعلق دعوؤں کو مشکوک بناتے ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ حملہ درحقیقت مقامی وقت کے مطابق صبح سات بجے کے قریب ہوا جب کہ شامی حکومت اور روس کا کا دعوی تھا کہ کارروائی دوپہر میں کی گئی۔

امریکی مصنوعی سیاروں سے حاصل تصاویر کی بنیاد پر نیویارک ٹائمز نے حملے سے پہلے اور بعد کی تصاویر کے موازنے کے بعد انکشاف کیا کہ کارروائی کے دوران شہری اور رہائشی علاقوں میں چھوٹی عمارتوں کو نشانہ بنایا گیا جو جغرافیائی طور پر اُن گوداموں سے کہیں دور واقع ہیں جن کے بارے میں شامی حکومت کا دعوی ہے کہ وہاں کیمیائی مواد موجود تھا۔

جہاں تک شامی حکومت کی جانب سے کیمیائی ہتھیار رکھنے کی تردید کا تعلق ہے تو امریکی اخبار نے ایک مرتبہ پھر "تنظیم برائے ممانعت کیمیائی ہتھیار" (OPCW) کے اُس موقف کو پیش کیا ہے جس میں تنظیم نے کہا تھا کہ اس امر کی تصدیق نہیں ہو سکی ہے کہ شامی حکومت اپنے کیمیائی ہتھیاروں کے ذخیرے سے مکمل طور پر چھٹکارہ حاصل کر چکی ہے۔