.

سیناء : مصری قبیلے نے داعشی کمانڈر کو زندہ جلا ڈالا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر میں سیناء کے قبائل نے دھمکی دی ہے کہ دہشت گرد تنظیم داعش کے عناصر کے تعاقب اور ان کو ہلاک کرنے کا سلسلہ جاری رہے گا یہاں تک کہ سیناء کا علاقہ شدت پسندوں سے پاک ہو جائے۔

اس دوران الترابین قبیلے کی جانب سے ایک وڈیو جاری کی گئی ہے جس میں قبیلے کے افراد نے داعش کے ایک کمانڈر کو زندہ جلا دینے کے بعد اس کے دیگر ساتھیوں کو بھی جلانے کی دھمکی دی ہے۔ یہ کارروائی چند روز قبل داعش کی جانب سے مذکورہ قبیلے کو دی جانے والی دھمکی کے جواب میں سامنے آئی ہے جو قبیلے کے مصری فوج اور پولیس کے ساتھ تعاون کے نتیجے میں دی گئی تھی۔

ایک قبائلی ذریعے نے "العربیہ ڈاٹ نیٹ" سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ جلایا جانے والا داعشی تنظیم کے اہم کمانڈروں میں سے ہے۔ اس نے ماضی میں سیناء سے تعلق رکھنے والے تین شہریوں اور ایک پولیس افسر کو زندہ جلایا تھا لہذا انتقامی کارروائی میں اس کمانڈر کو بھی قبائلی افراد نے زندہ جلا ڈالا۔

الترابین قبیلے کی جانب سے جمعرات کے روز جاری ایک بیان میں شدت پسندوں اور داعشیوں کے زیر انتظام ویب سائٹوں پر کیے جانے والے اس دعوے کی تردید کی گئی جس میں کہا گیا تھا کہ شدت پسندوں نے الترابین قبیلے کے 40 افراد کو ہلاک کر ڈالا ہے۔ بیان میں اس دعوے کو بے بنیاد اور من گھڑت قرار دیتے ہوئے سیناء میں تمام قبائل سے داعش کے خلاف متحد ہو جانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

دوسری جانب الترابین قبیلے کے ایک سردار ابراہیم العرجانی نے "العربیہ ڈاٹ نیٹ" سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ الترابین ، السوارکہ اور المرمیلا قبائل اس امر پر متفق ہو گئے ہیں کہ مصری فوج کے ساتھ ہم آہنگی کے ذریعے سیناء کے چپّے چپّے کو داعش تنظیم کے عناصر سے پاک کیا جائے اور اس سلسلے میں آئندہ دنوں میں قبائلی اتحاد کا قیام عمل میں آئے گا۔ العرجانی کے مطابق اس وقت داعش کے ارکان المہدیہ ، شبانہ ، العذراء ، جہاد ابو طبل اور المسمی کے علاقوں کے علاوہ العریش شہر کے بعض حصوں میں موجود ہیں جب کہ الشیخ زوید شہر کو داعشیوں سے مکمل طور پر پاک کر دیا گیا ہے۔

یاد رہے کہ دو ہفتے قبل داعش تنظیم کی جانب سے رفح شہر میں الترابین قبیلے کے صدر مرکز کو دھماکے سے اڑا دینے کے بعد قبیلے کے افرد اور داعش کے عناصر کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئی تھیں۔ علاوہ ازیں قبیلے کے افراد نے رفح کے مختلف علاقوں میں داعش کے ارکان کو نشانہ بنانے کے لیے گھاتیں بھی لگائی تھی۔