.

کیا روس نے بشار الاسد سے دست بردار ہونے کا فیصلہ کر لیا ؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عربی روزنامے "الحیات" کو موصول ہونے والی بعض معلومات کے مطابق روس اور مختلف فریقوں کے درمیان مذاکرات کی میز پر شامی صدر بشار الاسد کے انجام سے متعلق بحث زیرِ غور ہے۔

الحیات اخبار کی جانب سے جاری رپورٹ میں روسی اہل کاروں کے بیانات کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ اس معاملے کے "ریڈ لائن" کی صورت اختیار کر جانے کے بعد روس بشار الاسد کے مستقبل پر بات چیت کے لیے تیار ہے۔

روسی سفارت کاروں کے مطابق حالیہ عرصے میں ماسکو اور مغرب کے درمیان مذاکرات میں بشار کے مستقبل کا معاملہ شامل رہا ہے۔

الحیات اخبار کے مطابق ماسکو بات چیت کے دوران ایک سے زیادہ مرتبہ مقابل فریقوں سے بشار الاسد کی متبادل شخصیات کے نام طلب کر چکا ہے۔ بظاہر یہ پیش رفت ماسکو کی اعلانیہ پالیسی کے مخالف نظر آتی ہے۔

اخبار نے یہ بھی بتایا ہے کہ امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹیلرسن کے دورہ ماسکو کے دوران یہ امریکی پیش کش سامنے آئی کہ مغربی ممالک ایسے کسی بھی شخص کے ساتھ معاملات کے لیے تیار ہیں جس کو ماسکو بشار الاسد کے متبادل کے طور پر چنے گا.. جب کہ ماسکو نے بین الاقوامی ایجنڈے کے مطابق اقتدار کی سیاسی منتقلی کی کارروائی شروع کرنے کی تجویز پیش کی ہے جس کے دوران اقوام متحدہ کے زیر نگرانی براہ راست انتخابات کا انعقاد کرایا جائے اور ان انتخابات میں دیگر امیدواروں کے ساتھ بشار الاسد کو بھی حصہ لینے کی اجازت دی جائے۔ ساتھ ہی یہ بھی باور کرایا گیا ہے کہ عبوری عرصے کے دوران بشار الاسد کے اختیارات محدود ہوں گے۔

اگر روس بشار الاسد کی سپورٹ سے پیچھے ہٹتا ہے تو ایسی صورت میں علاقائی فریقوں کی جانب سے ایک نیا مجوزہ منظرنامہ سامنے آئے گا جس میں بشار پر اعتماد کے حوالے سے ایک وسیع عوامی ریفرنڈم کرایا جائے جس کے ذریعے شامی صدر کے باہر نکلنے کا راستہ ہموار ہو سکتا ہے۔