.

’’ہاں،آپ شیطان کے ساتھ ہی بیٹھے ہیں‘‘: بشارالاسد کا انٹرویور کو جواب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شامی صدر بشارالاسد نے اپنے ایک حالیہ انٹرویو میں کہا ہے کہ مغرب انھیں شیطان کہہ کر پکارتا ہے۔ان سے جب انٹرویور نے اس حوالے سے سوال کیا تو انھوں نے اس کے جواب میں کہا:’’ جی ہاں مغرب کے نقطہ نظر سے آپ شیطان کے ساتھ ہی بیٹھے ہوئے ہیں اور اہلِ مغرب میں ایسے ہی مارکیٹ کررہے ہیں‘‘۔

وہ لاطینی امریکا کے ٹیلی ویژن چینل ایس یو آر کے نمائندے سے گفتگو کررہے تھے۔شامی صدر نے امریکی صدر ڈونلڈ کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’’ ان کی کوئی پالیسیاں نہیں ہیں بلکہ وہ انٹیلی جنس ایجنسیوں ، پینٹاگان ،اسلحہ ساز بڑی فرموں ، تیل کمپنیوں اور مالیاتی اداروں کے فیصلوں کا نفاذ کررہے ہیں‘‘۔

انھوں نے کہا:’’ ہم نے گذشتہ چند ہفتوں کے دوران میں ملاحظہ کیا ہے کہ انھوں (امریکی صدر) نے اپنے بلند آہنگ انداز کو مکمل طور پر تبدیل کردیا ہے اور خود کو گہری امریکی ریاست یا امریکی رجیم کی شرائط کے تابع کردیا ہے‘‘۔

وہ شام کے وسطی شہر حمص کے نواح میں فوج کے ایک اڈے پر امریکی میزائل حملے کا حوالہ دے رہے تھے۔ امریکی صدر نے شام کے شمال مغربی صوبے ادلب میں واقع قصبے خان شیخون پر کیمیائی ہتھیاروں کے حملے کے بعد اسدی فوج کے اڈے پر میزائل داغنے کا حکم دیا تھا۔انھوں نے شامی فوج کو اس حملے کا ذمے دار قرار دیا تھا لیکن اسد حکومت نے اس واقعے سے کسی قسم کی لاتعلقی ظاہر کی تھی۔

بشارالاسد نے اپنے انٹرویو میں کہا کہ ’’ ہم نے کیمیائی ہتھیاروں کے امتناع کی تنظیم (او پی سی ڈبلیو) سے اس واقعے کی تحقیقات کے لیے خصوصی مشن بھیجنے کا کہا ہے لیکن امریکا ہر مرتبہ اس قسم کی تحقیقات کی راہ میں حائل ہوجاتا ہے یا وہ تحقیقات کے لیے آنے والے مشن کو روکنے کا سبب بن جاتا ہے‘‘۔

انھوں نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا:’’ گذشتہ ہفتے بھی یہی کچھ ہوا ہے۔ہم نے خان شیخون کے قصبے میں کیمیائی ہتھیاروں کے مبینہ استعمال کی تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا لیکن امریکا اور اس کے اتحادیوں نے او پی سی ڈبلیو کو اس فیصلے سے روک دیا تھا‘‘۔

ہیگ میں قائم اس تنظیم کے سربراہ احمد اُزمچو نے جمعے کے روز ایک بیان میں کہا تھا کہ شام کے کیمیائی ہتھیاروں کو تلف کرنے کے ذمے دارماہرین ان اطلاعات کی تحقیقات کررہے ہیں ،جن میں کہا گیا ہے کہ گذشتہ سال سے اب تک شام میں پینتالیس مرتبہ مہلک زہریلے ہتھیاروں کا استعمال کیا گیا ہے۔

اوپی سی ڈبلیو کے ڈائریکٹر جنرل نے صحافیوں کو بتایا کہ سال 2016ء کی دوسری ششماہی میں مہلک زہریلے ہتھیار استعمال کرنے کے 30 واقعات رپورٹ ہوئے تھے اور اس سال کے آغاز سے اب تک 15 واقعات کی اطلاع ملی ہے۔

ان میں 4 اپریل کو خان شیخون پر سیرین گیس کا حملہ بھی شامل ہے۔اس واقعے میں 31 بچوں سمیت 88 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ احمد ازمچو نے کہا کہ ’’ان تمام الزامات کو ہمارے ماہرین نے ریکارڈ کیا ہے اور وہ ہمارے آپریشنز مراکز کے ذریعے ان کی ہر روز پیروی کرتے ہیں‘‘۔واضح رہے کہ او پی سی ڈبلیو نے گذشتہ ہفتے خان شیخون کے متاثرین کے نمونوں کے لیبارٹری تجزیے کے بعد سیرین گیس سے حملے کی تصدیق کی تھی۔