.

مصر : حفظ قرآن کے مکاتب کی بندش کے حوالے سے حکومتی وضاحت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصری حکومت نے ہفتے کے روز سوشل میڈیا پر گردش میں آنے والی ان خبروں کی تردید کی ہے جن میں کہا گیا تھا کہ ملک میں حفظِ قرآن اور مبلغین تیار کرنے والے تمام مکاتب کو بند کر دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

سماجی یک جہتی کی وزارت کی جانب سے واضح کیا گیا ہے کہ اس نوعیت کا کوئی بھی فیصلہ صادر نہیں ہوا ہے۔

وزارت کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ وہ دیکھ بھال اور ترقیاتی نوعیت کی مختلف سرگرمیوں کے سلسلے میں مقامی سوسائٹیوں کو اجازت نامے جاری کر رہی ہے اور ہسپتالوں اور طبی مراکز کی انتظامیہ کے واسطے وزارت صحت کی جانب سے اجازت نامے جاری کیے جاتے ہیں۔ تاہم جہاں تک اسکولوں اور تعلیمی مراکز کا تعلق ہے اس کے اجازت نامے وزارت تعلیم جاری کرتی ہے جب کہ مبلغین کے مراکز کی صورت میں یہ اجازت نامے وزارت اوقاف کی جانب سے جاری کیے جاتے ہیں۔

بیان میں مزید بتایا گیا ہے کہ اس وقت سوشل میڈیا ویب سائٹوں پر جو خبریں گردش میں آ رہی ہیں وہ درحقیقت 26 اکتوبر 2015 کو وزیر اوقاف کی جانب سے جاری بیان سے متعلق ہیں جو مبلغین کے غیر اجازت یافتہ مراکز کے لیے مخصوص تھا۔

وزارت کی جانب سے باور کرایا گیا ہے کہ حفظ قرآن کے مکاتب کی سرگرمیوں کے روکے جانے کا تعلق حفظ کرانے والے اساتذہ کی جانچ سے ہے۔ اس سلسلے میں تمام صوبوں میں وزارت اوقاف کے ڈائریکٹریٹ ان اساتذہ کی جانچ کے بعد سرکاری طور پر اپنے اعتماد کے سرٹفکیٹ جاری کریں گے۔

وزارت کے مطابق اس حوالے سے اب تک 300 اساتذہ کا امتحان لیا جا چکا ہے اور ان کے لیے وزارت اوقاف کی جانب سے تعارفی کارڈ جاری کیے جا چکے ہیں۔