.

حزب اللہ معاشی طور پردیوالیہ ہونے کے قریب!

عالمی اقتصادی پابندیاں، بے تحاشا جنگی اخراجات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنان کی ایران نواز شیعہ ملیشیا حزب اللہ کو گذشتہ کچھ عرصے سے عالمی پابندیوں اور شام میں تنظیم کے غیرمعمولی اخراجات کے باعث بدترین مالی بحران کا سامنا ہے۔ حزب اللہ کو اس بحران کا سامنا ایک ایسے وقت میں کرنا پڑا ہے جب دوسری طرف امریکی کانگریس حزب اللہ اور اس کےساتھ وابستہ دیگر افراد اور اداروں پر پابندیوں پر غور کررہی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کو اپنے ذرائع سے اطلاعات ملی ہیں کہ حال ہی میں حزب اللہ کو بین الاقوامی اقتصادی پابندیوں کی کسی نئی قسط سے بچنے اور عالمی وعلاقائی اداروں کو بھی بچانے کے لیے حکمت عملی تیار کرنا شروع کی ہے۔

دوسری جانب حال ہی میں جرمن اخبار’دی ویلٹ نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ آمدن کے ذرائع مسدود اور محدود ہونے کےنتیجے میں حزب اللہ بدترین مالیات بحران کا سامنا کررہی ہے۔ عالمی اقتصادی پابندیوں کے نتیجے میں نہ صرف حزب اللہ بلکہ اس کے مقرب عناصر کو بھی معاشی طورکاری ضرب لگائی گئی ہے۔ یوں تنظیم انتظامی اور عسکری طور پرکم زور ہونے کے ساتھ ساتھ مالی طور پرعدم استحکام کا سامنا کررہی ہے۔

جرمن اخبار نے پیشن گوئی کی ہے کہ حزب اللہ اپنے اختتام کی طرف بڑھ رہی ہے۔ تنظیم کی صفوں میں انتشار موجود ہے جس کا اندازہ اس امر سے لگایا جاسکتا ہے کہ حزب اللہ کے سربراہ حسن نصراللہ نے اپنے ایک ساتھی مصطفیٰ بدرالدین کو گذشتہ برس قت کرادیا تھا۔

امریکا میں انسداد دہشت گردی اور انٹیلی جنس امور کے سابق سیکرٹری خزانہ آدم زوبین نے گذستہ برس مئی میں بتایا تھا کہ حزب اللہ کو غیر مسبوق مالی بحران کا سامنا ہے۔

کہا جاتا ہے کہ حزب اللہ کو یہ مالی بحران شام میں صدر بشارالاسد کے ساتھ مل کر جنگ لڑنے کے نتیجے میں پیش آیا۔ شام کی جنگ کے نتیجے میں جہاں حزب اللہ کو اپنے سیکڑوں جنگجوؤں کی قربانی دینا پڑی وہیں اس جنگ نے حزب اللہ کی تمام مادی توانائی بھی ختم کردی۔ رہی سہی کسر امریکا اور دیگر ممالک کی طرف سے عاید کردہ پابندیوں نےپوری کردی ہے۔

حزب اللہ کے مالیاتی عدم استحکام کی ایک اہم وجہ امریکا کی پابندیوں کا خوف بھی ہے۔ بہت سے مال دار شیعہ امریکی پابندیوں کے خوف کے باعث حزب اللہ کو فنڈز کی فراہمی سے دست کش ہوگئے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ اگر وہ حزب اللہ کو فنڈز فراہم کرتے ہیں تو امریکا انہیں بھی بلیک لسٹ کردے گا۔

حزب اللہ کی مالی کمزوری کی ایک وجہ عراق اور یمن میں اپنے جنگجو بھیجنا بھی ہے۔ یمن میں حوثی باغیوں کے ہمراہ کئی حزب اللہ عسکری مشیروں کو دیکھا گیا ہے۔

ایران حزب اللہ کا سب سے بڑا معاون

حزب اللہ کو درپیش مالی بحران کے حل میں اگر کوئی ریاست منظم انداز میں مدد فراہم کررہی ہے تو وہ ایران ہے۔ گذشتہ جون میں ایک خطاب میں حزب اللہ کے سربراہ حسن نصراللہ کا کہنا تھا کہ حزب اللہ بدستور ایرانی امداد سے مستفید ہو رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تنظیم کے بجٹ کا ایک بڑا حصہ ایران کی طرف سے فراہم کیا جاتا ہے۔

مغربی انٹیلی جنس اداروں کی رپورٹس کے مطابق ایران سالانہ 300 ارب ڈالر کی رقوم بیرون ملک اپنی حامی ملیشیاؤں پر صرف کررہاہے۔ لاجسٹک سپورٹس اور اسلحہ اس کے سوا ہے جس کی مالیت 700 ملین ڈالر بتائی جاتی ہے۔

شام کی جنگ میں شامل ہونے کےنتیجے میں حزب اللہ کو اپنے اضافی اخراجات کم کرنا پڑے ہیں۔ دوسری جانب ایران پر عاید عالمی معاشی پابندیوں کے نتیجے میں بھی تہران کی حزب اللہ کے لیے امداد متاثر ہوئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس کمی کو پورا کرنے کے لیے حزب اللہ کو لبنان کے اندر اور دوسرے ملکوں میں موجود مال دار شیعہ شخصیات سےرجوع کرنا پڑا ہے۔ حتیٰ کہ حزب اللہ نے افریقا، امریکا اور یورپی ملکوں میں موجود عناصر سے بھی مدد مانگی ہے۔