.

حماس کا سنہ 67ء کی حدود میں فلسطینی ریاست کی حمایت کا اعلان

فیصلہ خوش آئند ہے:فتح، دنیا کو فریب دینے کی کوشش ہے:اسرائیل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس‘ نے سنہ 1967ء کی چھ روزہ عرب۔ اسرائیل جنگ میں اسرائیل کے زیرتسلط آنے والے علاقوں پرمشتمل عبوری فلسطینی ریاست کےقیام کی حمایت کی ہے۔

دوسری جانب ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت ’فتح‘ نے حماس کےاعلان کا خیر مقدم کیا جب کہ اسرائیل نے حسب معمول اسے دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی کوشش سے تعبیر کیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق گذشتہ روز قطر کے دارالحکومت دوحہ میں حماس کے سیاسی شعبے کے سربراہ خالد مشعل نے جماعت کا ضمنی منشور پڑھ کر سنایا۔

اس نئے منشور میں کہا گیا ہے کہ حماس پورے فلسطین کی آزادی کے مطالبے پرقائم رہے گی مگر اسرائیل کو تسلیم کیے بغیر سنہ 1967ء کی حدود میں عبوری فلسطینی مملکت کے قیام کی حمایت کرے گی۔ اس حماس کے ساتھ ساتھ حماس قوم کے دیرینہ حقوق اور مطالبات پربھی قائم رہے گی۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ حماس کا نیا منشور جماعت کی عالمی تنہائی ختم کرنا اور علاقائی سیاسی دائروں میں خود کو قابل قبلو بنانے کی کوشش ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ حماس نے مذہبی سیاسی جماعت اخوان المسلمون سے بھی اپنا تعلق ختم کرکے یہ تاثر دیا ہے کہ وہ خطے کے عرب ممالک کے ساتھ زیادہ اعتدال پسندانہ انداز میں چلنے کو تیار ہے۔

حماس رہ نما نے کہا کہ ہم نے بنیادی حقوق اور مطالبات سےدستبردار نہ ہونے کےعزم کے ساتھ ساتھ نیا،لچک دار موقف پیش کیا ہے۔

دوسری جانب تحریک فتح نے حماس کے نئے منشور کا خیر مقدم کیا ہے اور کہا ہے کہ حماس کا نیا منشور فتح کے منشور سے کافی حد تک ہم آہنگی رکھتا ہے۔

سابقہ دستاویز میں اسرائیل کو صفحہ ہستی سے مٹانے کی بات کی گئی ہے مگر موجودہ منشور میں یہ جملہ نکال دیا گیا ہے۔ اخوان المسلمون سے ناطہ توڑنے کے ساتھ ساتھ مصر کے ساتھ بہتر تعلقات استوار کرنے کا بھی اعلان شامل ہے۔

دوسری جانب اسرائی نے اپنے موقف میں حماس کے نئے منشور کو مسترد کردیا ہے۔

اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو کے ترجمان ڈیوڈ کیز نے ایک بیان میں کہا ہے کہ حماس نے ہمیشہ دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی کوشش کی ہے۔ وہ آج تک اس میں کامیاب نہیں ہوسکی اور آئندہ بھی اپنے فریب میں کامیاب نہیں ہوگی۔

ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے لیے سرنگیں کھودنا اور اسرائیلی شہریوں پر راکٹوں کی بارش دراصل حماس کی حقیقت ہے۔