.

داعشی عدالت کے کم عمرمحافظ کے انکشافات

’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘ کی ٹیم کا اربیل میں اصلاح مرکز کا دورہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘ کی ٹیم نے عراق کے کرد اکثریتی صوبہ کردستان میں داعش کے چنگل سے چھڑائے گئے شہریوں اور داعش کے ساتھ وابستہ رہنے نوجوانوں اور خواتین کی اصلاح کے لیے قائم کردہ اصلاح سیںٹر کا دورہ کیا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کی ٹیم نے اس دورے کے دوران کم عمر داعشی جنگجوؤں اور خواتین سےبھی ملاقات کی۔ انہیں کرد فورسز الپیشمرگہ اور ’الاسائچ‘ سیکیورٹی فورسز نے موصل میں جاری آپریشن کے دوران گرفتار کیا گیا تھا۔

کرد فورسز کے ہاتھوں گرفتار ہونے والوں میں ’داعش‘ کے کم عمر لڑکے اور داعشی خواتین شامل ہیں۔

داعش کے زیرانتظام ’خنسا بریگیڈ‘ سے وابستہ کئی خواتین بھی کرد فورسز کے ہاتھوں گرفتارہوئیں۔

مجموعی طور پر ایسے 20 مردو خواتین کو حراست میں لیا گیا جو گذشتہ کچھ عرصے سےداعش کی قائم کردہ خود ساختہ حکومت میں داعش کے ملازم رہ چکے ہیں۔ خواتین میں ’الحسبہ’ کی عناصر شامل ہیں جن کی اہم ترین ذمہ داریاں خواتین کی تلاشی، چیکنگ، داعش کے وضع کردہ قوانین کی خلاف ورزی پرانہیں کوڑے مارنے حتیٰ کہ قتل تک کرنے کے ذمہ داریاں شامل تھیں۔

انہی خواتین میں سےبعض کی ذمہ داریاں لڑکیوں کو داعشی جنگجوؤں کے ساتھ شادیوں پر آمادہ کرنا اور انہیں قائل کرنا تھا۔

کرد سیکیورٹی فورسز کے اہلکار نے بتایا کہ داعشی خواتین کو موصل، الشرقات اور بعشیقہ سے حراست میں لیا گیا۔ یہ سب داعشی جنگجوؤں کی بیگمات ہیں۔

عراقی عہدیدار نے بتایا کہ گرفتار کی گئی خواتین نے اگرچہ بہت سے جرائم کا اعتراف نہیں کیا مگر ان کی تحویل میں کئی خواتین کی موت کی تصدیق ہوچکی ہے۔ غالب امکان یہ ہے کہ زیرحراست خواتین کی اموات وحشیانہ تشدد کا نتیجہ ہوسکتی ہے۔

جہاں تک داعشی خواتین کی عمر کا تعلق ہے تو ان میں 20 اور 30 سال کے کے درمیانی عرصے کی لڑکیوں کی تعداد زیادہ ہے تاہم بعض خواتین کی عمریں 68 سال تک بھی ہیں۔ بڑی عمر کی خواتین کو زیادہ تر باورچی خانوں میں کھانے پکانے کی ذمہ داریاں سونپی جاتی تھیں۔

داعش کے’نوعمر‘ خدام

خواتین کی طرح داعش نے کم عمر لڑکوں اور نوجوانوں کو بھی بھرپور استعمال کیا۔ کرد سیکیورٹی فورسزنے 220 ایسے کم عمر لڑکوں کوحراست میں لیا جو گذشتہ کچھ عرصے کے دوران داعش کی صفوں میں بالجبر یا رضاکارانہ طور پر شامل ہو کر تنظیم کی خدمت کرتے اور مختلف ذمہ داریاں نبھاتے رہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کی ٹیم جب عراقی کردستان میں داعش کے ساتھ وقت گذارنے والے افراد کے لیے قائم کردہ اصلاح سینٹرمیں داخل ہوئی تو بہت سے نوعمر لڑکے ’فٹ بال‘ کھیلنے میں منہمک تھے۔ یہ جگہ ان کے لیے روزانہ کی بنیاد پرہونے والی تفریح اور کھیل کودکے لیے مختص تھی۔

ان نوخیز داعشی [سابق] خُدام کے چہروں پر مردنی چھائی صاف دکھائی دی۔ وہ کنفیوژن اورالجھن کا شکار تھے اور تناؤ ان کے چہروں سے عیاں ہوتا تھا۔

العربیہ کی ٹیم نے اصلاح مرکز میں مطالعے کے لیے قائم کردہ سیکشن کا دورہ کیا جہاں کچھ نوجوان کتابوں کے مطالعے میں مشغول تھے۔ اصلاح مرکز میں زیادہ تر لٹریچر افسانوں،کہانیون، اادب، مذہبی کتب، عربی اور کرد زبانوں کی کتابیں شامل تھیں۔

داعشی عدالت کا سیکیورٹی گارڈ

العربیہ ڈاٹ نیٹ نے ایک 18 سالہ سابق داعشی سے بات کی۔ اس نے اپنا نام خالد بتایا اور کہا کہ اس کا تعلق موصل سے ہے۔ وہ داعش کے ہاں قائم کردہ شرعی عدالت کا سیکیورٹی اہلکار رہ چکا ہے۔18 سالہ خالد نے بتایا کہ وہ حمام العلیل میں داعش کی قائم کی گئی عدالت میں بہ طور سیکیورٹی گارڈ کام کرتا رہا۔مگر اس کا داعش کے ہاں قیام اور ملازمت کا عرصہ صرف تین ماہ پر محیط ہے۔ اسے 15 اکتوبر 2016ء کو حراست میں لے لیا گیا تھا۔

اس نے بتایا کہ داعش کے شرعی جج کا نام احمد فوزی المعروف ابو عائشہ تھا اور اس کا تعلق عراق سے تھا۔

جب اس سے پوچھا گیا کہ عدالت میں کس طرح کے کیس نمٹائے جاتے تو خالد نے بتایا کہ شادی بیا، قرضوں کے لین دین، لڑائی جھگڑے اور طلاق کے کیسز نمٹائے جاتے تاہم طلاق کے کیسوں کی شرح سب سے کم تھی۔ داعشی جج صبح آٹھ بجے عدالت میں پہنچ جاتا اور 2 بجے تک لوگوں کے مسائل سنتا۔ داعشی جج کو اس کام کے عوض 65 ہزار عراقی دینار اداکیے جاتے۔ امریکی کرنسی میں یہ رقم 600 ڈالر کے برابر ہے۔