.

بشار حکومت کے شانہ بشانہ لڑنے کے لیے نئی ایرانی ملیشیائیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران نے شام میں بشار حکومت کے شانہ بشانہ لڑنے کے لیے پاسداران انقلاب کے زیر انتظام ملیشیائیں بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔

اس سلسلے میں نئی پیش رفت "مہدی کی گرج" نامی ملیشیا ہے جو رواں برس مارچ میں معمر الدندن نامی شخص کے زیر قیادت تشکیل دی گئی۔

بعض وڈیو کِلپوں میں مذکورہ ملیشیا کو لبنانی تنظیم حزب اللہ کے فرقہ وارانہ ترانوں پر عسکری پریڈ کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

علاوہ ازیں شامی حکومت کے بارے میں ان فیصلوں کی تصاویر بھی جاری کی گئیں ہیں جن کو "شام میں ایران کے زیر انتظام ملیشیاؤں کے ساتھ تعلقات منظم کرنے" کا نام دیا گیا ہے۔

بعض دستاویزات میں انکشاف ہوا ہے کہ ایران ان ملیشیاؤں کے تمام اخراجات اور ان کے مقتول عناصر کے گھرانوں کی مکمل دیکھ بھال کی ذمے داری اٹھا رہا ہے۔

شام کے تنازع میں کودنے کے نتیجے میں ایران کو بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ اس دوران ایرانی پاسداران انقلاب کے زیر انتظام ملیشیاؤں (قُدس فورس ، فاطمیون اور زینبیوں وغیرہ) کے ہزاروں ارکان مارے گئے جن میں متعدد نمایاں کمانڈر بھی شامل ہیں۔