.

خطے کا مسئلہ ایرانی نظام ہے عوام نہیں : جِلا وطن ایرانی ولی عہد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شہزادہ رضا پہلوی اکتوبر 1960 میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد شاہ ایران محمد رضا پہلوی نے ایک فرمان کے ذریعے انہیں اپنا ولی عہد مقرر کیا تو شہزادے کی عمر سات برس سے زیادہ نہیں تھی۔ وہ 1979 میں خمینی کے زیر قیادت انقلاب کے آنے تک سرکاری طور پر شاہ کے ولی عہد رہے۔

شہزادہ رضا پہلوی امریکا میں جنگی ہوابازی کے کالج سے فارغ التحصیل ہوئے مگر انہوں نے اپنے محبوب مشغلے کو پیشے کے طور پر نہیں اپنایا بلکہ خود کو سیاست اور اسلامی جمہوریہ ایران کے نظام کی مخالفت کے لیے فارغ کر لیا۔ وہ ہی نظام نے جس نے 1979 میں ان کے گھرانے کی حکومت کو ختم کر دیا جب کہ ان شہزادے کی عمر صرف 19 برس تھی۔

رضا پہلوی اپنے گھرانے کے ساتھ امریکا میں زندگی گزارنے پر مجبور ہو گئے جو ان کی اہلیہ یاسمین اور تین بیٹیوں نور ، ایمان اور فرح پر مشتمل تھا۔ رضا پہلوی اپنے اکثر اخباری انٹرویو میں تہران میں موجودہ حکرماں نظام کے سقوط کے بعد "حقیقی جمہوریت اور آزادی" کو باور کراتے ہیں۔ اس واسطے انہوں نے اپریل 2013 میں ایرانی قومی کونسل بھی قائم کی اور خود اس کے سرکاری ترجمان بن گئے۔

"العربیہ ڈاٹ نیٹ" نے شاہ ایران کے بیٹے کے ساتھ خصوصی بات چیت کی جس کے دوران انہوں نے مختلف اہم امور پر روشنی ڈالی۔

عرب دنیا میں نئی نسل بالخصوص نوجوانوں کے لیے اپنی شخصیت کے تعارف کے حوالے سے رضا پہلوی نے کہا کہ وہ کئی کتابیں تالیف کر چکی ہیں جو ایران کے مستقبل کے حوالے سے ان کے سیاسی مواقف کو اچھی طرح سے واضح کرتی ہیں۔ ان کا واحد مقصد اپنے ہم وطن ایرانیوں کے لیے ایسے حالات سازگار بنانا ہیں جن کے ذریعے یہ لوگ گھٹن سے دور ایک پرامن ماحول میں اپنے سیاسی راستے کا فیصلہ کریں۔ ایرانی عوام شروع دن سے ہی اس امر کا ادراک رکھتے تھے کہ یہ انقلاب محض ایک دھوکہ ہے۔ ایران میں نئی نسل اس حد تک جان کاری اور علم رکھتی ہے کہ ایران کو موجودہ نظام کے ہاتھوں برباد ہونے سے بچائے۔
آنے والے وقتوں میں ایران کا حکم راں بننے کے امکان کے حوالے سے رضا پہلوی نے باور کرایا کہ ان کو مستقبل میں حکمرانی کی نوعیت کے حوالے سے کوئی تشویش نہیں ہے۔ موجودہ نظام سے آزادی کے بعد دیکھا جائے گا کہ عوام کس نوعیت کی حکمرانی کا چناؤ کرتے ہیں.. اور وہ اپنے ہم وطنوں کے اختیار کا پورا احترام کریں گے۔
شاہ ایران کے بیٹے نے اس خیال کا اظہار کیا کہ حقیقی جمہوریت کے زیرِ سایہ رہ کر ملک کے تمام شہریوں کو انفرادی اور اجتماعی حقوق حاصل ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ماضی میں (انقلاب سے قبل) ایران ہمیشہ سے پڑوسی ممالک کے ساتھ اچھی ہمسائیگی اور متبادل احترام کی پالیسی پر کاربند رہا ہے۔ تاہم اسلامی جمہوریہ کا نظام آنے کے بعد خطے میں فرقہ وارانہ مقاصد کے حصول اور رسوخ کو وسیع تر کرنے کے سبب کشیدگی اور امن کا انعدام سامنے آیا۔

رضا پہلوی نے باور کرایا کہ ایران میں بیرونی فوجی حملے کے ذریعے جمہوری حل کا حصول ممکن نہیں۔ انہوں نے کہا کہ میرا یقین ہے کہ عزم اور ثابت قدمی کے ساتھ سول نافرمانی اور پُر امن انقلاب کے ذریعے ہی مطلوبہ نتائج حاصل کر کے ملک کو بچایا جا سکتا ہے۔
رضا پہلوی کے مطابق اگر موجودہ نظام ایرانی عوام کے تمام تر جمہوری مطالبات مان لے اور عوامی رائے کے ذریعے ایک جمہوری حکومت کی تشکیل کے واسطے حالات سازگار ہو جائیں تو ایسی صورت میں وہ موجودہ نظام کے ارباب کے ساتھ با معنی مذاکرات کا حصہ بن سکتے ہیں تاکہ بحران سے باہر آیا جا سکے۔