.

حزب اسلامی کے سربراہ گلبدین حکمتیار 20 برس بعد کابل میں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

افغان جنگ کے سابق رہ نما گلبدین حکمتیار جمعرات کی صبح 20 برس کے بعد دارالحکومت کابل پہنچے تو گلبدین کے حامیوں نے اُن کا استقبال کیا۔

سڑک پر کھڑے سیکڑوں افراد نے حزب اسلامی کے سربراہ کا خیر مقدم کیا جو موجودہ صدر اشرف غنی کی حکومت کے ساتھ ستمبر 2016 میں طے پائے گئے ایک معاہدے کے تحت افغانستان کے سیاسی منظر نامے میں لوٹے ہیں۔

حکمتیار نے اپنا پہلا اعلانیہ اجلاس ہفتے کے روز کابل کے مشرق میں دو گھنٹے کی مسافت پر واقع صوبے لغمان میں منعقد کیا۔ جمعرات کے روز دارالحکومت آتے ہوئے سیکڑوں گاڑیاں گلبدین کے قافلے میں شامل ہو گئیں۔ ان گاڑیوں میں سوار افراد ملی ترانے گا رہے تھے اور پشتو زبان میں " کابل میں خوش آمدید" کے نعرے لگا رہے تھے۔

حزب اسلامی کے 67 سالہ سربراہ کابل میں صدارتی محل میں افغان صدر اشرف غنی سے ملاقات کریں گے۔

مذکورہ معاہدہ موجودہ حکومت کی جس کو طالبان کی جانب سے بغاوت کا سامنا ہے.. اس قدرت کی نشان دہی کرتی ہے کہ اس نے مذاکرات کے ذریعے مسلح اپوزیشن کے ایک رہ نما کو اپنے ساتھ شامل کر لیا۔

ایک ہفتہ قبل کابل واپسی کے اعلان کے بعد ہی شہر کے کئی علاقوں میں خیرمقدم کے بڑے بینر آویزاں ہو گئے تھے تاہم جلد ہی ان کو پھاڑ دیا گیا جس سے ثابت ہوتا ہے کہ کابل کی آبادی کا ایک حصہ اس معاہدے کو مسترد کرتا ہے۔

ابھی تک بہت سے لوگ گزشتہ صدی میں 90ء کی دہائی کے آغاز میں کابل پر اُس وقت کے وزیراعظم گلبدین حکمتیار کی بم باری کو یاد کرتے ہیں جس کے نتیجے میں شہر کا ایک تہائی حصہ تباہ ہو گیا اور ہزاروں شہری اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔