.

کیا ایران نے آبنائے ہرمز میں زیرِ سمندر میزائل داغا ؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی ذمے داران کی جانب سے انکشاف کیا گیا ہے کہ ایران نے گزشتہ منگل کو آبنائے ہرمز میں ایک آبدوز سے کروز میزائل داغنے کا ناکام تجربہ کیا۔ امریکی چینل "فوكس نيوز" نے دو امریکی ذمے داران کے حوالے سے بتایا ہے کہ یہ میزائل "یونو - كلاس" ساخت کی آبدوز سے داغا گیا اور دنیا میں ایران اور شمالی کوریا ہی وہ دو ممالک ہیں جو اس ساخت کی آبدوز استعمال کرتے ہیں۔ "فوكس نيوز" کے مطابق ابھی تک یہ واضح نہیں ہوا کہ آیا منگل کے روز کیا جانے والا تجربہ پہلا موقع تھا جب ایران نے آبدوز کے ذریعے زیرِ سمندر میزائل داغنے کی کوشش کی۔ واضح رہے کہ ایران نے فروری میں دعوی کیا تھا کہ وہ آبدوز کے ذریعے میزائل داغنے کے تجربے میں کامیاب ہو گیا ہے۔

ایرانی بحریہ کو کروز میزائل کی فراہمی

ایرانی وزیر دفاع جنرل حسین دہقان نے 15 اپریل کو اعلان کیا تھا کہ پاسداران انقلاب کی بحریہ کو کروز میزائل فراہم کر دیے گئے ہیں۔ یہ اقدام اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرار داد نمبر 2231 کو صریح چیلنج ہے جو جولائی 2015 میں ایران اور 5+1 ممالک کے درمیان طے پائے جانے والے نیوکلیئر معاہدے کے بعد جاری ہوئی۔ اس قرارداد کے تحت ایران پر دور مار کرنے والے میزائلوں کی تیاری کے علاوہ بیلسٹک اور نیوکلیئر ہیڈ لے جانے کی قدرت رکھنے والے میزائلوں کے تجربات پر پابندی عائد کی گئی تھی۔

دہقان کے مطابق پاسداران انقلاب کی بحریہ کو فراہم کردہ زمین سے زمین تک مار کرنے والے "نصیر" میزائل کو سمندری اہداف کے خلاف استعمال کیا جاتا ہے جن میں اہم بحری جنگی جہاز اور لانچر ہیں۔

میزائل پروگرام کی ترقی کے لیے بجٹ

یاد رہے کہ رواں برس ایران کے عام بجٹ میں پاسداران انقلاب کے بجٹ میں 24% اضافہ کر دیا گیا ہے۔ پاسداران کی قیادت کے مطابق بجٹ میں اضافے کا زیادہ تر حصہ میزائلوں کی تیاری اور میزائل پروگرام کو ترقی دینے پر خرچ کیا جائے گا۔

ایرانی صدر حسن روحانی نے یہ اقدام اس لیا کیا تا کہ 19 مئی کو مقررہ صدارتی انتخابات سے قبل پاسداران انقلاب فورس اور اس کے ہمنوا گروپوں کی حمایت حاصل کی جا سکے۔ روحانی نے دفاعی بجٹ میں 14 ارب ڈالر کا اضافہ کیا جس میں 53% حصہ پاسداران انقلاب کو گیا۔