.

’یونیسکو‘ قرارداد پر نیتن یاھو نے ’یو این‘ کی امداد کم کر دی

’آئینہ اُن کو دکھایا تو بُرا مان گئے‘

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی حکومت نے اقوام متحدہ کے ثقافتی ادارے‘یونیسکو‘ کی جانب سے بیت المقدس میں صہیونی سرگرمیوں کو ’باطل‘ قرار دیے جانے پر سخت برہمی کا اظہار کیا ہے اور ساتھ ہی اقوام متحدہ کے خلاف انتقامی کارروائیاں شروع کر دی ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاھو نے وزیر خارجہ کو حکم دیا ہے کہ وہ اقوام متحدہ کو دی جانے والی ایک ملین ڈالر کی امداد روک دے۔

’یونیسکو‘ کی قرارداد پر اپنے رد عمل میں نیتن یاھو نے کہا کہ ’یو این‘ کے ذیلی دارے نے بیت المقدس میں یہودیوں کے وجود کا انکار کرکے ایک اور گھٹیا حرکت کی ہے۔ یہودی تین ہزار سال سے القدس کے مالک و مختار ہیں۔ یہود اور بیت المقدس کے باہمی رابط کو باطل قرار دینا کسی صورت میں قابل قبول نہیں۔ میں نے وزارت خارجہ کو ہدایت کی ہے کہ وہ ’یو این‘ کو دی گئی امداد واپس لے اور مزید رقوم جاری نہ کرے۔

خیال رہے کہ دو روز قبل ’یونیسکو‘ نے دو تہائی اکثریت سے ایک قرارداد منظور کی تھی جس میں پرانے بیت المقدس میں اسرائیل کی تمام تر سرگرمیوں کو غیر آئینی اور باطل قرار دیا تھا۔ قرارداد میں عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ وہ بیت المقدس میں اسرائیلی کی جاری کھدائیوں کی روک تھام کے لیے عالمی معائنہ کار بیت المقدس بھیجے۔ یونیسکو کے اس تاریخی فیصلے پر صہیونی حکومت سیخ پا ہے۔

’یونیسکو‘ کا کہنا ہے کہ بیت المقدس کا نقشہ تبدیل کرنے کے لیے اسرائیل جو کچھ بھی کر رہا ہے وہ باطل اور غیر قانونی ہے۔ اسرائیل کے تمام اقدامات کو ہر صورت میں بند ہونا چاہیے۔