.

یمن : حوثی باغی مزید بچوں کو لڑائی میں جھونک رہے ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

جنگجوؤں کی تعداد میں سنگین کمی سے نمٹنے کے لیے یمن میں حوثی اور معزول صدر علی صالح کی ملیشیاؤں نے شمال مغربی صوبے المحویت میں ایک مرتبہ پھر سے جبری بھرتی کی مہم اور قبائلی افراد کو لڑائی میں جھونکنے کا سلسلہ شروع کر دیا ہے جن میں بچے بھی شامل ہیں۔

مقامی قبائلی ذرائع کے مطابق ان ملیشیاؤں کے زیر انتظام تعلیمی قیادت طلبہ کو بھرتی کرنے کے واسطے اسکولوں کا استعمال کر رہی ہے"۔

ہباط کے علاقے میں تیس بچوں کو زبردستی ملیشیاؤں کے زیر انتظام عکسری تربیت کے کیمپوں میں بھیجا گیا۔ بعد ازاں ان کو الحدیدہ صوبے میں لڑائی کے محاذوں پر بھیجا جانا تھا۔ تاہم یمنی شہری ملیشیاؤں کے سامنے ڈٹ گئے اور باغی عناصر ان میں آٹھ سے زیادہ بچوں کو پُھسلانے میں کامیاب نہیں ہوئے۔

باغی ملیشیاؤں نے گزشتہ دو روز کے دوران یمن کے صوبے الحدیدہ میں متعدد اجلاس منعقد کیے جن کے دوران صوبے کے دو ضلعوں باجل اور کدن کے تمام مراکز میں جبری بھرتی کی منظوری دی گئی۔