.

دمشق کے نواحی علاقے سے شامی باغیوں کے انخلاء کا آغاز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شامی باغیوں نے صدر بشارالاسد کی حکومت کے ساتھ ایک سمجھوتے کے تحت دارالحکومت دمشق کے نواحی علاقے برزہ سے انخلاء شروع کردیا ہے۔

شام کے سرکاری ٹیلی ویژن چینل نے اطلاع دی ہے کہ باغی جنگجو اور ا ن کے رشتے دار برزہ سے باغیوں کے زیر قبضہ شمال مغربی صوبے ادلب کی جانب منتقل کیے جا رہے ہیں۔

برطانیہ میں قائم شامی رصدگاہ برائے انسانی حقوق نے بتایا ہے کہ سوموار کی صبح بیسیوں بسیں برزہ پہنچ گئی تھیں اور ان پر سیکڑوں باغی جنگجو اور ان کے رشتے دار سوار ہورہے تھے۔اس قصبے سے آیندہ پانچ روز کے دوران باغی جنگجوؤں اور ان کے خاندانوں کی ادلب کی جانب منتقلی جاری رہے گی۔

دریں اثناء جیش الاسلام کے ترجمان حمزہ بیرقدار نے کہا ہے کہ ان کے دھڑے نے انخلاء کے اس سمجھوتے کے لیے کسی قسم کے مذاکرات میں حصہ نہیں لیا ہے اور بارزہ سے تعلق رکھنے والی ایک شہری کمیٹی نے حکومت کے ساتھ مذاکرات کے بعد یہ سمجھوتا طے کیا ہے۔

شامی صدر بشارالاسد باغیوں کے زیر قبضہ علاقوں سے جنگجوؤں اور ان کے خاندانوں کے انخلاء کو اپنی حکومت کی ایک بڑی کامیابی قرار دے رہے ہیں۔وہ اس کو مصالحتی عمل قرار دیتے ہیں جس کے تحت شامی فوج کے محاصرے کا شکار علاقوں سے جنگجو ؤں اور ان کے خاندانوں کو مصالحت کے تحت سرکاری بسوں میں دوسرے علاقوں میں منتقل کیا جارہا ہے۔

تاہم اقوام متحدہ نے باغیوں کے زیر قبضہ علاقوں کے محاصرے اور پھر وہاں سے مقامی لوگوں کی نام نہاد سمجھوتوں کے تحت دوسرے علاقوں کی جانب منتقلی کے عمل پر تنقید کی ہے اور اس کو مکینوں کی جبری بے دخلی قرار دیاہے ۔

برزہ شامی دارالحکومت کے شمال مشرق میں واقع ہے اور یہ باغیوں کے زیر قبضہ مشرقی الغوطہ کے نزدیک ہے۔ اس قصبے میں حالیہ مہینوں کے دوران میں شامی فوج اور باغیوں کے درمیان خونریز جھڑپیں ہوتی رہی ہیں۔