.

مصر: اخوان کی نئی دستاویز میں پالیسیوں میں لچک لانے کا انکشاف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کی کالعدم مذہبی سیاسی جماعت اخوان المسلمون کے ایک جلا وطن رہ نما محمود عزت نے ایک نئی دستاویز شائع کی ہے اس کے مطابق اس قدیم جماعت نے ملک میں ایک سیاسی قوت تسلیم کیے جانے کی صورت میں ڈاکٹر محمد مرسی کے اقتدار کی بحالی کی شرط سے دستبرداد ہونے کا فیصلہ کرلیا تھا۔

محمود عز ت کا تعلق اخوان کے ایک مقتول رہ نما محمود کمال کے دھڑے سے ہے۔ محمود کمال مصری پولیس کے ساتھ ایک مبینہ جھڑپ میں مارے گئے تھے۔اس دستاویز کا عنوان ’’ مطابقت کے سمجھوتے سے متعلق پیغام ‘‘ تھا۔متعلقہ فریقوں نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ یہ دستاویز طویل مذاکرات کے نتیجے میں معرض وجود میں آئی تھی۔

تب اس کو اخوان المسلمون کی قیادت کو بھیجا گیا تھا اور اس نے داخلی اور خارجی طور پر اس سے اتفاق کیا تھا اور اس کو اختیار کر لیا تھا۔اخوان کی قیادت نے یہ فیصلہ جماعت کے لیے متعدد فوائد وثمرات کے حصول کے لیے کیا تھا۔مثال کے طور پر اس سے وہ اپنی سیاسی تنہائی کا خاتمہ چاہتی تھی ۔دوسروں کے خوف وخدشات دور کرنا چاہتی تھی۔وہ جماعت کے اعتماد کی بحالی اور اس کا تشخص بہتر بنانا چاہتی تھی۔

اخوان کی قیادت کا خیال تھا کہ اس کو جھوٹے الزامات کا سامنا ہے اور ان کے نتیجے میں مصر میں اخوان کو ایک دہشت گرد تنظیم قرار دےدیا گیا تھا۔

اخوان المسلمون کے ایک سابق رہ نما اسلام الکتاتنی نے العربیہ نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے اس دستاویز کے ماضی میں اجراء کے اسباب بیان کیے ہیں۔انھوں نے کہا کہ اخوان المسلمون عالمی اور علاقائی دباؤ کی وجہ سے کمزور ی کی آخری حدوں کو چھور ہی تھی اور اس کو بعض خلیجی عرب ممالک نے بھی ایک دہشت گرد گروپ قرار دے دیاتھا۔

انھوں نے کہا کہ اس پر مستزاد اخوان کی شاخیں ہیں۔ فلسطینی تنظیم حماس کی طرح تیونس اور مراکش سےتعلق رکھنے والے دھڑوں نے اخوان سے اپنا ناتا توڑ لیا ہے۔اس صورت حال میں اخوان المسلمون نے اپنے پختہ اور کٹڑ موقف سے دستبردار ہونے کا فیصلہ کیا تھا اور اس نے اتنی لچک کا مظاہرہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا جو دوسروں کے لیے سردردی کا سبب بنے ۔

ان کا کہنا تھا کہ محمود عزت کے دھڑے میں جماعت کی تاریخی شخصیات بھی شامل ہیں۔ ان کے بہ قول اب اخوان المسلمون کے لیے حالات سازگار نہیں رہے ہیں۔مثال کے طور پر ڈاکٹر محمد مرسی کی ایک قانونی صدر کی حیثیت سے واپسی ، مقدمات کی سماعت کی تنسیخ اور سیاسی منظرنامے میں واپسی اب ناممکن المعمل ہو چکی ہے۔

اس دستاویز میں یہ کہا گیا ہے کہ اگر اخوان المسلمون اپنے ان مطالبات پر اصرار جاری رکھتی ہے تو اس سے اس کے مکمل سقوط کی راہ ہموار ہوجائے گی اور تمام سیاسی قوتیں اس کو چھوڑ دیں گی۔اب تک جماعت کے کٹرپن اور سخت موقف کی وجہ سے یہی کچھ ہورہا ہے۔

اسلام الکتاتنی کا کہنا تھا کہ اس دستاویز کا حشر ماضی میں مرتب کردہ دستاویز ایسا ہی ہوگا کیونکہ محمد کمال کا دھڑا زیادہ تر نوجوانوں پر مشتمل ہے اور جماعت کی تیسری یا چوتھی نسل ان شرائط کو تسلیم نہیں کرے گی۔ یہ دھڑا انقلابی تحریک کا حامی ہے اور اس کی یہ سوچ ہے کہ اس طرح مصری حکومت کو مذاکرات کی میز پر آنے پر مجبور کیا جاسکتا ہے۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ ان کے مطالبات عملی طور پر ناقابل عمل ہیں اور انھیں وہ سیاسی قوتیں قبول نہیں کریں گی جن کے ساتھ مل کر جماعت آیندہ صدارتی انتخابات میں حصہ لینا چاہتی ہے۔الکتاتنی نے اس جملے پر اپنی بات ختم کی کہ اخوان المسلمون کے لیے صورت حال جوں کی توں ہی رہے گی اور اس میں کچھ بھی تبدیلی رونما نہیں ہوگی۔

وہ سیاسی منظرنامے میں واپسی کے لیے اپنے پختہ اصولوں سے پیچھے نہیں ہٹے گی جبکہ حماس اور مراکش اور تیونس میں اخوان المسلمون کے دھڑوں نے اپنے اپنے موقف میں لچک پیدا کی ہے۔تاہم مصر ی اخوان المسلمون شاید ان کی طرح نہ کرسکے کیونکہ اگر وہ ایسا کر بھی گزرتی ہے تو اس کی قیادت اور کارکنان کے خلاف کا سلسلہ جاری رہے گا۔