.

سعودی طالبہ کا پرائمری ٹیچر کے خلاف انوکھا ترین مقدمہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب میں ایک پرائمری اسکول کی مقامی ٹیچر اس وقت حیران رہ گئی جب اُس کی کلاس میں پڑھنے والی ایک طالبہ نے مذکورہ ٹیچر کے خلاف مقدمہ دائر کر دیا۔

مملکت کے مشرقی صوبے میں واقع اسکول کی طالبہ کے وکیل کی جانب سے دائر کی جانے والی درخواست میں ٹیچر کی سرزنش کا مطالبہ کیا گیا کیوں کہ اس نے وکیل کی مؤکلہ کو دیگر طالبات کے سامنے ہتک آمیز رویے کا نشانہ بنایا تھا.. ٹیچر کی سزا کے سبب طالبہ کو شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا جس نے اس پر نفسیاتی اثر بھی ڈالا۔ اس دوران مدعی کی جانب سے خاتون ٹیچر کے خلاف محاسبے اور سزا کے مطالبے کے علاوہ طالبہ کو ہرجانے کی ادائیگی کا بھی مطالبہ کیا گیا۔

تاہم عدالت نے مقدمے کا جائزہ لینے کے بعد مدعی کے تمام مطالبوں کو مسترد کر دیا۔ خاتون ٹیچر نے اپنے بیان میں وضاحت کی کہ وہ " ایک استاد ہے اور مناسب طریقے سے طالبات کے خلاف تادیبی کارروائی کرنا اس کی ذمے داریوں میں سے ہے تا کہ ان طالبات کو تعلیمی نصاب کے حوالے سے بہتر نتائج کے لیے تیار کیا جا سکے"۔ ٹیچر کا کہنا تھا کہ ہماری پہلی ذمے داری تربیت اور اس کے بعد تعلیم کی ہے۔