.

مصر : بالائی ریجن میں متنازعہ مقابلہ حُسن میں نقاب پوش خاتون بھی شریک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کے بالائی ریجن میں کئی ماہ سے جاری ملکہ حسن کے مقابلے کا اختتام رواں ماہ 25 مئی کو ہو رہا ہے۔ تاہم اس مقابلے نے وسیع پیمانے پر تنازعہ کھڑا کر دیا ہے اور ریجن میں واقع صوبوں کے عوام کی جانب سے بڑی تعداد میں اعتراضات سامنے آ رہے ہیں۔

مقابلے میں شریک کُل 130 امیدواروں میں سے 17 نوجوان خواتین اختتام پوزیشنوں پر پہنچی ہیں جن میں ایک نقاب پہننے والی حسینہ بھی شامل ہے۔ مقابلے کے آخری اور حتمی مرحلے کے لیے 5 خواتین کا انتخاب کیا جائے گا جن میں سے ہر ایک اپنی شخصیت اور اپنے فلاحی منصوبوں کو پیش کرے گی۔

مقابلے کا خیال پیش کرنے والی خاتون منتظم رحاب الحسینی نے "العربیہ ڈاٹ نیٹ" کو بتایا کہ نتائج میں 50% نمبر جیوری کے پاس ہوں گے جب کہ بقیہ 50% کا اختیار عوام کے پاس ہوگا جو سوشل میڈیا ویب سائٹ پر مقابلے کے سرکاری صفحے پر ووٹ دے سکیں گے۔

مصر کے بالائی ریجن کے عوامی حلقوں کی جانب سے اس مقابلے پر بہت سے اعتراضات اٹھائے گئے اور منتظمین کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ جواب میں اعتراض کرنے والوں کے واسطے واضح کیا گیا کہ مقابلے میں توجہ کا محور خواتین کا حسن و جمال نہیں ہے بلکہ ذہانت ، ثقافت ، سوچ کی جِدّت ، اخلاق ، ترقی کی خواہش اور بالائی ریجن کی خواتین کی معزز تصویر پیش کرنے جیسے امور ہیں۔

مقابلے میں شریک نقاب پوش خاتون رضوی محمود کی عمر 25 برس ہے۔ اس نے عربی زبان اور ادب میں گریجویشن کیا اور ایک نجی اسکول میں بطور ٹیچر کام کرتی ہے۔ رضوی کا خواب ہے کہ وہ عالمی سطح پر بچوں کے لیے انسانی ترقی کا پہلا اور سب سے بڑا انسٹی ٹیوٹ قائم کرے۔

مقابلے میں شریک ایک اور امیدوار مروہ ناصر کا کہنا ہے کہ وہ اس وقت ادب کے شعبے میں گریجویشن کی طالبہ ہے اور وہ 13 تربیتی کورسز کر چکی ہے۔ مروہ سیٹلائٹ چینلوں میں بھی کام کر چکی ہے۔ اس کا مقابلے میں شریک ہونے کا مقصد دنیا کو یہ بتانا ہے کہ مصر کے بالائی ریجن کی عورت بہترین عقل ، جدت پسند سوچ اور اخلاق کی مالک ہے جو اپنے ملک کی ترقی اور خوش حالی میں بھرپور کردار ادا کر سکتی ہے۔

مقابلے میں شریک خاتون امیرہ فوزی پیشے کے لحاظ سے ڈاکٹر ہے۔ امیرہ کے مطابق اس کا مقابلے میں شریک ہونے کا مقصد یہ ہے کہ عوام کو اپنے پیشے سے متعلق ایک اہم مسئلے کے بارے میں آگاہی پہنچائے۔ یہ مسئلہ بچوں کی پیدائش کے وقت یا ابتدائی عمر میں سماعت کی کمزوری ہے۔ اس سلسلے میں جلد تشخیص کامیاب علاج کے لیے فائدہ مند ہے۔

اسی نوعیت کا ایک مقابلہ اکتوبر 2016 میں بالائی ریجن کے قلب میں واقع صوبے اسیوط میں شروع ہوا تھا۔ تاہم اس نے بحرانی صورت حال پیدا کر دی تھی اور ریجن کے قدامت پسند گھرانوں نے اس کو اپنی بیٹیوں کے لیے ضرر رساں قرار دیا تھا۔ علاوہ ازیں الازہر کے علماء نے بھی اس مقابلے پر اعتراض کیا تھا۔

1