.

معزول صالح کا حوثیوں کو رُسوا کرنے اور صنعاء واپس لینے کا منصوبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کے معزول صدر علی عبداللہ صالح نے اپنے زیر انتظام ذرائع ابلاغ کو اس حوالے سے گرین سگنل دے دیا ہے کہ وہ حوثی ملیشیاؤں کے سربراہ عبدالملک الحوثی کو یمنی عوام کے سامنے رُسوا کریں۔ یہ پیش رفت اُن رپورٹوں کے بعد سامنے آئی ہے جن میں کہا گیا تھا کہ عبدالملک الحوثی معزول صدر صالح کو ہلاک کر دینے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ معزول صالح نے اپنے زیر انتظام " الیمن الیوم" چینل کو اجازت دے دی کہ وہ حوثی جماعت کو کڑی نکتہ چینی کا نشانہ بنائے ، حوثی ملیشیاؤں کے مخالفین اور ان کی کارروائیوں سے متاثرہ افراد کو اسکرین پر لائے، حوثیوں کے ایران کے ساتھ تعلقات کو اِفشا کرے اور یمنی عوام کے سامنے اس امر کو بے واضح کرے کہ حوثی ملیشیائیں لٹیروں کا ٹولہ ہے جو صرف مالِ غنیمت ، وزارتیں اور مالی رقوم حاصل کرنے کے لیے کوشاں رہتا ہے۔

صنعاء کو حوثیوں سے واپس لینے کا منصوبہ

معزول صدر علی عبداللہ صالح اس وقت ایک منصوبے پر غور کر رہے ہیں جس کا مقصد دارالحکومت صنعاء کو حوثی جماعت سے آزاد کرا کر اس کا کنٹرول واپس لینا ہے۔ یمن کے مقامی میڈیا ذرائع کے مطابق معزول صدر اور ان کی جماعت پیپلز کانگریس حوثیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے ایک منصوبہ تیار کیا ہے۔ اس کے تحت پہلے نے میڈیا کے ذریعے یمن کی تمام تر مشکلات کا ذمے دار حوثیوں کو ٹھہرایا جائے گا اور یہ باور کرایا جائے گا کہ انہوں نے یمن کو کوڑیوں کے مول تہران کے ملّاؤں کو بیچ ڈالا۔ منصوبے کا اختتام عسکری طور پر حوثیوں کے مقابلے اور ان پر قابو پانے کے ساتھ ہوگا۔

غدّاری اور اہانت

یاد رہے کہ پیپلز کانگریس کے ارکان کی ایک بڑی تعداد نے معزول صدر صالح کو شکایات پیش کی تھیں کہ حوثیوں کی جانب سے انہیں اہانت آمیز برتاؤ کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور حوثی عناصر پیپلز کانگریس سے تعلق رکھنے والے وزراء کی جانب سے جاری ہر فیصلے کو مسترد کر دیتے ہیں۔ ذرائع کے مطابق معزول صالح نے حوثیوں کے سامنے کئی مرتبہ اس مطالبے کو دہرایا کہ باغیوں کی نام نہاد سپریم انقلابی کمیٹی کو تحلیل کر دیا جائے جس نے سرکاری اداروں میں موجود اپنے نگرانوں کو ہٹانے سے انکار کر دیا تھا۔

فوجیوں اور افسران کے لیے "جبری" کورسز

دوسری جانب معزول صدر صالح کے ایک قریبی صحافی نے انکشاف کیا کہ حوثی ملیشیاؤں نے ریپبلکن گارڈز کے زیر انتظام افراد اور کمانڈروں کی فہرستیں تیار کی ہیں جن کو جبری طور پر حوثیوں کے گڑھ صعدہ صوبے بھیجا جائے گا تا کہ وہ حوثی جماعت سے ہم آہنگ ہونے کے لیے ثقافتی کورسز کریں۔ پیپلز کانگریس کے ایک رہ نما نے اس اقدام کو خطرناک قرار دیا اور واضح کیا کہ ان کورسز کے انعقاد کا مقصد یمنی قوم کے خلاف اشتعال دلانا اور یہ باور کرانا ہے کہ "نظریاتی طور پر یمنیوں کے سوا ہمارا کوئی دشمن نہیں"۔

لُوٹ مار

مذکورہ صحافی نے یہ بھی انکشاف کیا کہ حوثی ملیشیاؤں کی جانب سے جاری لوٹ مار اور چوری کی کارروائیوں کے سلسلے میں تقریبا 7 ہزار گاڑیوں کو چھین کر ان کی ملکیت حوثیوں کے زیر انتظام عوامی کمیٹیوں کے حوالے کی گئی۔ یہ گاڑیاں اداروں ، وزارتوں ، سفارت خانوں اور ان کے زیر انتظام سفارتی دفتروں ، عسکری کیمپوں اور تمام ریاستی اداروں سے لوٹی گئیں