.

شامی اداکارہ.. لاکھوں پرستار مگر جنازے میں صرف 9 افراد !

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں ہفتے کے روز وفات پانے والی معروف عرب اداکارہ "نجاح حفیظ" کی تدفین کے حوالے سے مختلف حلقوں کی جانب سے شدید غم و غصے کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ 1975 میں "فطوم حيص بيص" کے کردار نے نجات کو بے پناہ شہرت بخشی۔ انہوں نے اپنی زندگی کے آخری لمحات دمشق میں ابن النفیس ہسپتال میں گزارے۔

ایک فن کار کے مطابق نجاح کے جنازے میں صرف 9 افراد شریک تھے۔ کئی دہائیوں سے عرب دنیا میں لاکھوں دلوں پر راج کرنے والی فن کارہ کی آخری رسومات انتہائی خاموشی اور گمنام انداز سے ادا کر دی گئیں۔ اس طریقہ کار کے نتیجے میں عوامی حلقوں کی جانب سے شدید رد عمل سامنے آ رہا ہے۔

سوشل میڈیا پر گردش میں آنے والی وڈیو میں ابتدائی طور پر 5 افراد میت کو اٹھائے نظر آئے جب کہ دو یا تین افراد اس منظر کو اپنے موبائل فون کے ذریعے فلم بند کر رہے تھے۔ ان کے علاوہ ہسپتال کی بعض نرسیں اور کچھ راہ گیر بھی اطراف میں دکھائی دے رہے تھے۔

اس سلسلے میں شام میں فن کاروں کی مختلف انجمنوں نے "بشار الاسد کی ہمنوا فن کار انجمن" کو نجاح حفیظ کے جنازے کو غیر مسبوق طور پر نظر انداز کرنے پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ اس کے بعد بشار ہمنوا انجمن نے وضاحت جاری کی ہے کہ ہادی بقدونس نے انجمن کی نمائندگی کرتے ہوئے جنازے میں شرکت کی تھی۔

بشار ہمنوا انجمن نے اپنا دفاع کرتے ہوئے یہ بتایا کہ اس نے نجاح حفیظ کے ہسپتال اور تجہیز و تکفین کے تمام اخراجات برداشت کیے۔ انجمن نے جنازے میں شریک تمام 9 افراد کے ناموں کی فہرست بھی جاری کی۔ یہ فہرست سرکاری طور پر اس بات کی گواہی ہے کہ شام میں سینئر فن کاروں نے نجاح حفیظ کے جنازے کو مکمل طور پر نظر انداز کر دیا۔

اس سے قبل 28 اپریل کو وفات پانے والی ایک اور شامی فن کارہ ہالہ حسنی کی آخری رسومات میں بھی شامی فن کاروں کی عدم شرکت نمایاں رہی۔ مذکورہ فن کارہ کے جنازے میں لوگوں کی انتہائی کم تعداد کے سبب سوشل میڈیا پر مختلف حلقوں نے تبصروں کے ذریعے وسیع پیمانے پر نکتہ چینی اور تنقید کا اظہار کیا۔