.

شام: امریکا کی حمایت یافتہ فورسز کا طبقہ شہر اور ڈیم پر قبضہ

ایس ڈی ایف کا مکمل کامیابی کا دعویٰ ،داعش کے جنگجو شدید لڑائی کے بعد پسپا ہوگئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا کے حمایت یافتہ شامی عربوں اور کرد جنگجوؤں پر مشتمل اتحاد نے داعش کے جنگجوؤں سے لڑائی کے بعد طبقہ شہر اور اس کے نزدیک واقع ڈیم پر قبضہ کر لیا ہے۔

شام میں لڑائی کی مانیٹرنگ کرنے والے گروپ شامی رصد گاہ برائے انسانی حقوق کے سربراہ رامی عبدالرحمان نے لندن سے یہ اطلاع دی ہے اور بتایا ہے کہ شامی جمہوری فورسز (ایس ڈی ایف)شہر پر اپنا کنٹرول مضبوط بنانے کے لیے کوشاں تھیں۔

طبقہ شہر دریائے فرات کے کنارے واقع ہے اور یہ داعش کی خود ساختہ خلافت کے صدر مقام الرقہ سے 55 کلومیٹر دور ایک اہم سپلائی روٹ پر واقع ہے۔

ایس ڈی ایف کے ترجمان طلال سیلو نے فرانسیسی خبررساں ادارے اے ایف پی کو بتایا ہے کہ ’’ ان کی فورسز نے فتح پالی ہے اور طبقہ شہر اور ڈیم کو مکمل طور پر آزاد کرالیا ہے‘‘ْ۔

شامی جمہوری فورسز پیش قدمی کرتے ہوئے 24 اپریل کو شمال کی جانب سے شہر میں داخل ہوئی تھیں اور انھوں نے جہادیوں کو ڈیم کے نزدیک دو علاقوں تک محدود کردیا تھا۔

لیکن داعش نے ان کی کار بموں ،مسلح ڈرونز اور ماہر نشانچیوں کے ذریعے شدید مزاحمت کی تھی۔اس دوران میں امریکا اور اس کے اتحادیوں کے لڑاکا طیاروں نے طبقہ میں داعش کے ٹھکانوں پر شدید بمباری جاری رکھی تھی۔

امریکی اتحادیوں کے فضائی حملوں اور بری کارروائی کا مقصد داعش کے مضبوط گڑھ الرقہ کی جانب پیش قدمی کرنا ہے۔ایس ڈی ایف نے امریکا کی مدد و حمایت سے نومبر میں داعش کے خلاف اس کارروائی کا آغاز کیا تھا اور اس کو ’’فرات کاغضب‘‘ نام دیا تھا۔اس دوران میں اب تک ایس ڈی ایف نے داعش کے زیر قبضہ بہت سے علاقے لڑائی کے بعد چھین لیے ہیں اور وہاں اپنی عمل داری قائم کر لی ہے۔