.

شام میں لڑائی تو کم ہوگئی مگر امداد بدستور معطل ہے: اقوام متحدہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ کے گذشتہ ہفتے روس ،ترکی اور ایران کے درمیان شام میں محفوظ زونز کے قیام کے لیے طے شدہ سمجھوتے کے بارے میں لاکھوں سوالات ہیں۔ البتہ اس کی وجہ سے برسرزمین لڑائی میں کمی واقع ہوئی ہے مگر اس کے باوجود امدادی قافلے معطل ہیں اور انھیں جنگ زدہ علاقوں تک رسائی نہیں مل سکی ہے۔

یہ بات اقوام متحدہ کے انسانی امور کے رابطہ کار جان ایگلینڈ نے جمعرات کے روز ایک نیوز کانفرنس میں کہی ہے۔انھوں نے کہا کہ ’’اب روس ، ترکی اور ایران ہمیں آج اور کل کا سندیسہ دے رہے ہیں کہ وہ اس سمجھوتے پر عمل درآمد کے لیے کھلے طور پر اور فعال انداز میں کام کریں گے‘‘۔

انھوں نے کہا کہ ’’ہمارے ملین (دس لاکھ) سوالات اور تشویشیں ہیں لیکن میرے خیال میں ہمیں اس دورازکار خوش امیدی کے بارے میں وہ سہولت حاصل نہیں ہے جو بعض کو حاصل ہے اور وہ یہ کہہ رہے ہیں کہ یہ ناکام ہوگا۔ ہمیں اس کو کامیاب بنانے کی ضرورت ہے‘‘۔

دریں اثناء اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی برائے شام اسٹافن ڈی میستورا نے کہا ہے کہ ’’ جنگ زدہ ملک میں محفوظ زونز کے قیام کے لیے دنیا کی طاقتوں کے وضع کردہ منصوبے کو ایک عبوری انتظام سمجھاجانا چاہیے اور یہ تقسیم کا پیش خیمہ نہیں ہے‘‘۔

ڈی میستورا نے کہا کہ روس ،ایران اور ترکی کے درمیان گذشتہ ہفتے جس تجویز پر اتفاق رائے ہوا ہے،اس سے امدادی گروپوں کی متاثرہ علاقوں تک رسائی کے عمل میں بہتر آئے گی لیکن ساتھ ہی ان کا کہنا ہے کہ ان محفوظ علاقوں کو نئے حملوں کے لیے ایک اڈے کے طور پر استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔

انھوں نے جنیوا میں آیندہ ہفتے شامی حکومت اور باغی گروپوں کے درمیان امن مذاکرات کے نئے دور سے قبل یہ بیان جاری کیا ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ اب ان کی ترجیح جنگ بندی کو مضبوط بنانا ہے۔

عالمی ایلچی نے یہ بھی بتایا ہے کہ شام میں قیدیوں کی رہائی کے لیے سمجھوتا قریب قریب طے پاچکا ہے اور اس ضمن میں مذاکرات توقع سے بھی کہیں تیزی سے پایہ تکمیل کو پہنچے ہیں۔