.

صہیونی حکام بچوں کوفلسطینیوں کے قتل کی ترغیب دینے لگے!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی ذرائع ابلاغ نے انکشاف کیا ہے کہ صہیونی پولیس کی جانب سے پانچویں جماعت کے طلباء کو فلسطینیوں کو گولیاں مار کر انہیں قتل کرنے کیفیات اور طریقہ کار سے آگاہ کرنے کی ایک متنازع مہم پرعمل پیرا ہے جس پر یہودی بچوں کے والدین نے بھی تشویش اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔

عبرانی زبان میں شائع ہونے والے کثیرا لاشاعت اخبار ’ہارٹز‘ نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ ’پولیس اور سوسائٹی میں باہمی تعلقات کے لیے منائے جانے والے قومی دن کے موقع پر پولیس کو ’رمات ہشارون‘ مذہبی اسکولوں میں زیرتعلیم بچوں کو ایسی ویڈیوز اور فلمیں دکھائیں جن میں زمین پر پڑے زخمی فلسطینیوں کو گولیاں مار کر انہیں شہید کرنے کے مناظر دکھائے گئے۔

ان ویڈیوز میں پانچویں جماعت کے یہودی طلباء بتایا گیا کہ ایک’تخریب کار‘ فلسطینی پر کیسے قابو پانا اور فلسطینیوں کی طرف سے درپیش خطرے سے کیسے نمٹنا ہے۔

اخباری رپورٹ کے مطابق اسرائیلی پولیس کی طرف سے فلسطینیوں کے خلاف آپریشن کی ایک فرضی پریڈ بھی دکھائی گئی جس میں اچانک فائرنگ کی آواز کے ساتھ یہودی بچوں کو متنبہ کیا گیا۔ اس کے بعد چار پولیس اہلکاروں کو فلسطینیوں کی طرف اندھا دھند فائرنگ کرتے بھی دکھایا گیا۔ فائرنگ کرنے والے پولیس اہلکار کمانڈو یونٹ ’یسام‘ سےتعلق رکھتے ہیں۔

یہ پہلا موقع نہیں کہ اسرائیلی بچوں کے سامنے پولیس نے فلسطینیوں کےقتل کے طریقہ کار پر مبنی پریڈ یا نمائش کی ہے۔ صہیونی پولیس ’یوم نکبہ‘ جسے اسرائیل سرکاری طور پر ’یوم آزادی‘ قرار دیتا ہے کے موقع پر اس طرح کی تقریبات کا عام اہتمام کرتی ہیں۔

حال ہی میں عبرانی چینل’2‘ نے بھی اپنی رپورٹ میں بتایا کہ حال ہی میں اسرائیلی وزارت تعلیم کی جانب سے ایک ویڈیو فوٹیج دکھائی گئی جس میں اسرائیلی فوجیوں کو ایک فلسطینی نوجوان کو ’دہشت گرد‘ قرار دے کر گولیاں مارنے کا طریقہ سکھایا گیا۔

ٹی وی کی ویب سائیٹ پرپوسٹ خبر میں بتایا گیا ہے کہ یہ ویڈیو فوٹیج وزارت تعلیم کے زیراہتمام ایک تقریب میں دکھائی گئی جس میں ابتدائی جماعتوں کے سیکڑوں یہودی طلباء طالبات موجود تھے۔ مبینہ فوٹیج میں اسرائیلی اسکولوں میں زیرتعلیم یہودی بچوں کو فلسطینیوں کو گولیاں مار کر قتل کرنے کی ترغیب دی گئی۔

رپورٹ کے مطابق بعض بچوں کے والدین نےاسکول کے کم عمر طلبا کو قتل اور تشدد کی ترغیب دیے جانے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اس کی مذمت کی ہے۔ والدین کا کہنا ہے کہ یہ بات انتہائی افسوسناک ہے کہ یہودی بچوں کو سرکاری سرپرستی فلسطینیوں کے قتل پر اکسانے کی مذموم کوشش کی جاتی ہے۔