.

عراقی شیعہ ملیشیا کی شام اور عراق پرقبضے کی دھمکی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے پروردہ ایک عراقی شیعہ ملیشیا ’عصائب اھل الحق‘ کے سربراہ نے عراق اور شام پر قبضے کی دھمکی دی ہے۔

العربیہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ایرانی حمایت یافتہ عراقی شیعہ ملیشیا’عصائب اھل الحق‘ کے سربراہ قیس الخزعلی نے ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے عراق اور شام پر قبضے کی دھمکی دی۔ الخزعلی کا یہ بیان ایک ویڈیو کی شکل میں سماجی رابطوں کی ویب سائیٹ’فیس بک‘ پر بھی پوسٹ کیا گیا۔

الخزعلی کا کہنا تھا کہ ان کی تنظیم ’ہلال الشیعی‘ کے بجائے ’البدر الشیعی‘ تشکیل دے گی۔

عراقی شیعہ جنگجو کا کہنا تھا کہ وہ لڑاکا فورس تیار کررہے ہیں۔ ساتھ ہی اس بات کی طرف بھی اشارہ کیا کہ ایرانی پاسداران انقلاب، یمن میں حوثی، لبنان میں حزب اللہ اور عراق میں الحشدالشعبی کی صف میں وہ اپنی تنظیم عصائب اھل الحق کو بھی شامل کریں گے۔

خیال رہے کہ عصائب اھل الحق نے مقتدیٰ الصدر کے گروپ سے علاحدگی اختیار کرنے کے بعد اپنا الگ سفر شروع کیا اور قیز الخزعلی کو تنظیم کا سیکرٹری جنرل اور اکرم الکعبی کو اس کا نائب مقرر کیا گیا تھا۔ ایک اندازے کے مطابق عصائب اھل الحق سے وابستہ جنگجوؤں کی تعداد 10 ہزار کے لگ بھگ ہے۔ اس تنظیم نے عراق پر حملہ کرنے والے امریکیوں سمیت 6 ہزار غیرملکی فوجیوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا۔ جنوری 2012ء کو قیس خزعلی نے ہتھیار پھینک کر سیاسی عمل کا حصہ بننے کا اعلان کیا۔ بعد ازاں شام میں بشارالاسد کے دفاع میں اپوزیشن کے خلاف جنگ میں اپنے جنگجو جھونک دیے تھے۔

عصائب اھل الحق نے ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے ہاتھ پر بیعت کر رکھی ہے۔ عراقی سیاسی قیادت اس تنظیم پر ہزاروں افراد کے اغواء، قتل اور تشدد کا الزام عاید کرتے ہوئے اسے دہشت گردی کی فہرست میں شامل کرنے کا مطالبہ بھی کرتی رہی ہے۔