.

غربِ اردن : فلسطینی قیدیوں کے حق میں مظاہروں کے دوران جھڑپیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی جیلوں میں بھوک ہڑتال کرنے والے فلسطینی قیدیوں کے حق میں دریائے اردن کے مغربی کنارے میں احتجاجی ریلی نکالی گئی ہے۔اس کے دوران میں قابض فورسز اور فلسطینیوں کے درمیان جھڑپوں کی اطلاعات ملی ہیں۔

اسرائیلی فوجیوں نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے ربر کی گولیاں چلائی ہیں جس سے دو مظاہرین زخمی ہوگئے ہیں۔اے ایف پی کے ایک رپورٹر نے بتایا ہے کہ ان دونوں زخمیوں کو اسپتال منتقل کردیا گیا ہے اور اسٹریچر پر ڈالتے وقت ان کی ٹانگوں سے خون رس رہا تھا۔

اسرائیلی فوجیوں اور مظاہرین کے درمیان رام اللہ شہر کے ایک داخلی دروازے اور ایک بڑے چیک پوائنٹ اور اسرائیلی یہودی بستی بیت ایل کے نزدیک جھڑپیں ہوئی ہیں۔ احتجاجی مظاہرے میں شریک فلسطینی نوجوانوں نے اسرائیلی فورسز کی جانب پتھراؤ کیا جبکہ فوجیوں نے اس کے جواب میں مظاہرین پر ربر کی گولیاں چلائی ہیں اور پانی پھینکا ہے۔

اسرائیلی جیلوں میں قید سیکڑوں فلسطینیوں نے 17 اپریل سے بھوک ہڑتال کررکھی ہے۔ان کے حق میں فلسطینی تب سے مقبوضہ بیت المقدس اور مغربی کنارے کے قصبوں اور شہروں میں احتجاجی مظاہرے کررہے ہیں۔

فلسطینی قیدی کلب کے سربراہ نے ایک بیان میں بتایا ہے کہ مسلسل بھوک ہڑتال کی وجہ سے بہت سے قیدی اپنے بستروں سے اٹھ بھی نہیں سکتے ہیں اور نہ وہ اپنی بنیادی ضروریات کو پورا کرسکتے ہیں۔

دریں اثناء ریڈ کراس کے نمائندوں نے بھوک ہڑتال کرنے والے فلسطینیوں کے رہ نما مروان برغوثی سے جیل میں ملاقات کی ہے۔ بھوک ہڑتال کے آغاز کے بعد برغوثی سے کسی عالمی ادارے کے وفد کی یہ پہلی ملاقات تھی۔