.

عراقی شیعہ ملیشیا پر ہزاروں سنی شہریوں کے اغواء کا الزام

فلوجہ میں سنی آبادی کو اقلیت میں بدلنے کی سازش؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق میں سرکاری فوج کے ساتھ ساتھ متوازی سیکیورٹی فورس کے طور پر سرگرم شیعہ ملیشیا الحشد الشعبی پر الزام ہے کہ اس نے داعش کے خلاف جنگ کی آڑ میں سنی اکثریتی شہر فلوجہ سے ہزارون سُنی مسلمانوں کو یرغمال بنا لیا ہے۔

العربیہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق گذشتہ ہفتے الانبار گورنری کی مقامی کونسل کی طرف سے احتجاجی مظاہرے کیے گئے جن میں یہ الزام عاید کیا گیا کہ الحشد الشعبی ملیشیا نے فلوجہ شہر سے ہزاروں شہریوں کو داعش سے تعلق کے شبے میں حراست میں لینے کے بعد نامعلوم مقامات پر منتقل کر رکھا ہے۔

اس الزام کے سامنے آنے کے بعد عراق کی متحدہ فورسز اور الحشد الشعبی کے درمیان بھی ایک نئی کشیدگی پیدا ہوئی ہے۔ متحدہ فورسز نے بھی یرغمال بنائے گئے تمام سنی مسلمانوں کو سامنے لانے اور انہیں رہا کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

دوسری جانب الحشد الشعبی نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے داعش کی حمایت میں لڑنے والوں کو گرفتار کیا ہے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ الحشد الشعبی 100 فی صد سنی اکثریتی شہر فلوجہ میں آبادیاتی تبدیلی کے لیے ہزاروں سنی مسلمانوں کو داعش سے تعلق کی آڑ میں یرغمال بنا رکھا ہے۔ مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ الحشد الشعبی نے فلوجہ شہر کے علاقوں الکرمہ، السجر، الصقلاویہ اور فلوجہ شہر سے ایک سال سے زاید عرصے سے ہزاروں افراد کو حراست میں لینے کے بعد نامعلوم مقامات پر منتقل کر رکھا ہے۔

الانبار ضلعی کونسل کا کہنا ہے کہ الحشد الشعبی یرغمال بنائے گئے 3 ہزار شہریوں کے بارے میں معلومات فراہم کرنے کے مطالبات پر پس و پیش سے کام لے رہی ہے۔

کونسل کا کہنا ہے الحشد الشعبی اور عراقی حزب اللہ نے الانبار اور کربلا کے درمیان الرزازہ کے چیک پوسٹوں سے ہزاروں افراد کو اغواء کے بعد نامعلوم مقام پر منتقل کردیا تھا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ الانبار اور فلوجہ سے اغواء کیے گئے شہری جنوبی بغداد میں عراقی وزارت صنعت کے زیرانتظام ایک کمپنی کے مرکز میں رکھے گئے ہیں۔ اس کےعلاوہ سنی اکثریتی عراقی شہروں میں بھی شیعہ ملیشیا نے اپنے خفیہ قید خانے قائم رکھے ہیں جہاں بڑی تعداد میں سنی مسلمانوں کو پابند سلاسل کیا گیا ہے۔ ان خفیہ حراستی مراکز کی نگرانی الحشد الشعبی کے ساتھ ساتھ عراق حزب اللہ کے پاس ہے۔ ان تنظیموں سے وابستہ شیعہ جنگجو یرغمال بنائے گئے سنی مسلمانوں پر وحشیانہ تشدد کے مرتکب قرار دیے جا رہےہیں۔