.

جبری بے دخلی.. شامی اپوزیشن کا جنیوا 6 کے بائیکاٹ کا عِندیہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں بشار حکومت کے جرائم اور دمشق اور اس کے نواحی علاقوں میں جبری بے دخلی کی پالیسی کے سبب شامی اپوزیشن کی سپریم مذاکراتی کمیٹی نے آئندہ جنیوا بات چیت میں اپنے وفد کی شرکت روک دینے کا عِندیہ دیا ہے۔

برزہ اور تشرین کے علاقوں کے بعد شامی اپوزیشن کے دو ہزار سے زیادہ جنگجو اپنے خاندانوں سمیت دمشق کے علاقے القابون سے کوچ کر گئے۔ یہ پیش رفت انخلاء کے ایک خفیہ معاہدے پر اپوزیشن مسلح عناصر کی آمادگی کے بعد سامنے آئی۔ دمشق کے شمال مشرقی جانب واقع اس علاقے کے ایک چھوٹے سے حصے میں اپوزیشن عناصر کے محصور ہو جانے کے بعد اس کو تقریبا 80 روز تک فضائی بم باری اور میزائل حملوں کا نشانہ بنایا گیا۔ اس کے نتیجے میں علاقے کا بڑا حصہ ملبے کے ڈھیر میں تبدیل ہو گیا۔

شامی حکومت کی افواج نے ایک روز کے انتباہ کے بعد بدھ کو القابون پر پھر سے شدید گولہ باری شروع کی۔ انتباہ میں اپوزیشن جنگجوؤں کو ہتھیار ڈالنے اور شمالی شام میں اپوزیشن فورسز کے زیر کنٹرول علاقوں کی جانب کوچ کرنے پر آمادہ ہونے کے لیے کہا گیا تھا۔

شام میں انقلابی اور اپوزیشن فورسز کے قومی الائنس کے رکن ہشام مروہ کے مطابق ہوسکتا ہے کہ مذاکرات کی سپریم کمیٹی شامی حکومت کے جرائم کی وجہ سے جنیوا میں اپنی شرکت کو معطل کر دے۔

شامی اپوزیشن کو اندیشہ ہے کہ جنیوا میں بات چیت کا آئندہ دور بشار حکومت کے لیے مزید وقت ضائع کرنے اور سیاسی اقتدار کی منتقلی کے عمل سے فرار کا ذریعہ ہو گا۔

اقوام متحدہ کی سخت تنقید اور اپوزیشن کے انتباہات کے باوجود شامی حکومت نے جبری بے دخلی اور محاصرے کی پالیسیاں اپنا رکھی ہیں۔

اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل آنتونیو گیٹرس نے سلامتی کونسل میں پیش کی جانے والی ایک رپورٹ میں خبردار کیا تھا کہ شام میں لوگوں کی جبری بے دخلی جنگی جرم کی صورت اپنا سکتی ہے۔ گیٹرس نے واضح کیا کہ حالتِ جنگ میں آبادی کو صرف اُن کی حفاظت کے مقصد سے ہجرت پر مجبور کیا جا سکتا ہے.. اور بین الاقوامی قانون کے مخالف کوئی بھی جبری بے دخلی جنگی جرم کی سطح تک بڑھ سکتی ہے۔ گیٹرس نے زور دے کر کہا کہ کوچ کا عمل محفوظ اور رضاکارانہ طور پر اُس علاقے کی جانب ہونا چاہیے جس کا انتخاب شہری خود کریں اور محض حالات کے مناسب ہوتے ہی ان افراد کو اپنے گھروں کو لوٹ جانے کی اجازت ہونی چاہیے۔