.

شامی حکومت کی افواج عراق اور اردن کی سرحد کے نزدیک تعینات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شامی حکومت کی افواج اور ایرانی نواز گروپوں کی جانب سے عراق اور اردن کی سرحد کے نزدیک علاقوں میں غیر مسبوق نوعیت کی عسکری نقل و حرکت ہو رہی ہے۔ یہ بات پیر کے روز "العربیہ" نیوز چینل کی ایک رپورٹ میں بتائی گئی ہے۔

انٹیلی جنس ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ سیکڑوں شامی فوجیوں اور ایران کے حمایت یافتہ شیعہ گروپوں کے عناصر نے ٹینکوں ، توپوں ، بھاری ساز و سامان اور بکتر بند گاڑیوں کے ساتھ صحرائی قصبے السبع بیار کی جانب رخ کیا۔ یہ قصبہ دمشق اور بغداد کے درمیان مرکزی تزویراتی راستے کے نزدیک واقع ہے۔ اس اقدام کا مقصد داعش کی جانب سے خالی کیے جانے والے علاقوں کو امریکی حمایت یافتہ "جیشِ حُر" کے ہاتھوں میں جانے سے روکنا ہے۔ بالخصوص 'دمشق بغداد ہائی وے' شام میں ایرانی اسلحے کے داخلے کے لیے ایک مرکزی راستہ ہے۔

عسکری ماہرین کے نزدیک اردن اور عراق کے ساتھ سرحدی علاقوں میں شامی حکومت اور اس کے حلیفوں کی کُمک.. اُس متوقع کارروائی کے جواب میں سامنے آئی ہے جو اردن اور مغربی ممالک کے حامیت یافتہ گروپوں کی جانب سے کی جا سکتی ہے۔ اسی کے سبب اردن اور بشار الاسد کی حکومت کے درمیان زبانی جھڑپ بھی دیکھنے میں آئی۔ بشار حکومت دھمکی دے چکی ہے کہ اُس کے ساتھ پیشگی ہم آہنگی کے بغیر شامی اراضی میں داخل ہونے والی اردن کی کسی بھی فورس کو دُشمن شمار کیا جائے گا۔

ادھر اردن یہ موقف واضح کر چکا ہے کہ اسے شام کے اندر فوج بھیجنے کی کوئی ضرورت نہیں البتہ وہ اپنی سرحد کی حفاظت کے لیے کسی بھی نوعیت کی کارروائیاں عمل میں لا سکتا ہے۔ اردن کے مطابق وہ محفوظ رہے گا اور کسی بھی شدت پسند جماعت کو اپنے لیے خطرہ نہیں بننے دے گا۔ اسی طرح ایرانی ملیشیاؤں اور حزب اللہ کے زیر انتظام دیگر ملیشیاؤں کو بھی ہر گز اس بات کی اجازت نہیں دی جائے گی کہ وہ اردن کی شمالی سرحد کے دوسری جانب موجود ہوں۔ ان تمام امور کا ذکر عَمّان کی جانب سے بشار حکومت کے مرکزی حلیف ماسکو کو بھیجے گئے پیغامات میں کیا گیا۔