.

ناقابل یقین اسکینڈل.. ہسپتال میں عراقی فوجی کا گُردہ "چوری"!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق میں لڑائی میں زخمی ہونے کے بعد کندھے کا علاج کرانے کے لیے ہسپتال میں داخل ہونے والا فوجی اپنے ایک گردے سے محروم ہو گیا۔

عراقی وزارت دفاع کے زیر انتظام بغداد آپریشنز کمانڈ میں ذمے داریاں انجام دینے والا فوجی رائد شکیر اپنے زخمی بازو کے علاج کے واسطے جولائی 2014 میں دارالحکومت کے الکاظمیہ ہسپتال میں داخل کیا گیا تھا۔ تاہم ہسپتال سے فارغ ہونے کے بعد اُسے یہ انکشاف ہوا کہ اُس کے جسم سے بایاں گُردہ غائب ہے۔

شکیر نے عراقی وزیر دفاع عرفان الحیالی تک رسائی حاصل کی اور انہیں اپنے ساتھ ہونے والے معاملے سے آگاہ کیا.. جو عراق میں صحت کے سیکٹر میں غیر مسبوق نوعیت کا ایک دھماکا دار اسکینڈل تھا۔ عراقی وزارت دفاع نے فوری طور پر ایک تحقیقی کونسل تشکیل دینے کا اعلان کیا۔ ساتھ ہی وزیر دفاع الحیالی نے احکامات جاری کیے کہ وزارت دفاع کے خرچ پر متاثرہ فوجی شکیر کا بیرون ملک علاج کرایا جائے۔

تاہم الکاظمیہ ہسپتال کے ڈائریکٹر عبدالرحمن اسماعیل نے عراقی فوجی کے دعوے کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے اس امر کی تصدیق کی کہ مذکورہ فوجی بنیادی طور پر آپریشن تھیٹر میں داخل ہی نہیں ہوا۔ وہ صرف 4 روز تک ہسپتال میں رہا اور اس دوران شکیر کے پورے ہوش حواس میں اُسے ابتدائی طبی امداد فراہم کی گئی۔ اس کے علاوہ ڈاکٹروں کی جانب سے اس کے کندھے میں گولی لگنے سے پیدا ہونے والے زخم کے علاج کی نگرانی کی گئی۔ یہ زخم 15 سینٹی میٹر لمبا تھا۔

دوسری جانب متاثرہ فوجی رائد شکیر نے "العربیہ ڈاٹ نیٹ" سے گفتگو کرتے ہوئے پوری کہانی بیان کی جو الکاظمیہ ہسپتال کے ڈائریکٹر کے بیان کے بالکل برعکس تھی۔ شکیر کے مطابق ہسپتال میں علاج کے دوران اس نے 4 روز سے زیادہ قیام کیا۔ اُس کو آپریشن تھیٹر میں لے جا کر بے ہوش بھی کیا گیا تھا تا کہ کندھے کے گہرے زخم کا علاج ہو سکے.. کیوں کہ اگر وہ علاج نہ کرواتا تو قریب تھا کہ اس کا بازو کاٹنا پڑ جاتا۔

شکیر نے یہ بھی بتایا کہ ہسپتال سے کوچ کر جانے کے بعد بھی اُسے یہ معلوم نہ ہوا کہ اُس کا بایاں گردہ نکال لیا گیا ہے۔ کچھ عرصے بعد اُس کا ایک بازو مکمل طور پر مفلوج ہو گیا تو وزارت دفاع کے طبی خدمات کے ڈائریکٹریٹ نے الکاظمیہ ہسپتال سے شکیر کے حوالے سے طبی رپورٹ طلب کر لی۔ اس رپورٹ کے آنے پر یہ تصدیق ہوئی کہ شکیر کا ایک گردہ نکلا ہوا ہے۔

اب عراقی فوجی رائد شکیر نے عراقی وزارت صحت اور الکاظمیہ ہسپتال کے خلاف مقدمہ دائر کیا ہے۔ دونوں اداروں پر ہسپتال کی رپورٹ کو بے بنیاد قرار دینے اور شکیر کے آپریشن تھیٹر میں داخل ہونے اور بے ہوش کیے جانے کی تردید کا الزام عائد کیا گیا ہے۔