.

پاکستانی شہری کی شادی میں شریک سعودی قبیلے کو کیا جواب مِلا ؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بعض مرتبہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے سامنے آنے والے مواقف ملک و قوم کے لیے باعث افتخار ثابت ہوتے ہیں۔

اسی حوالے سے سعودی عرب میں سوشل میڈیا پر سرگرم حلقوں نے " ٹوئیٹر" پر ایک وڈیو کلپ جاری کیا ہے جس میں مملکت کا ایک قبائلی رواج اور ایک پاکستانی مقیم کی مہمان دوستی کا جذبہ سامنے آیا ہے۔ سعودی عرب کے جنوبی علاقوں میں یہ رواج ہے کہ شادی ، تعلیم مکمل کرنے یا نئے گھر میں منتقل ہونے یا اس طرح کے بڑے موقع پر منعقد تقریب میں قبیلے کے افراد کچھ رقم جمع کر کے اسے مدد کی نیت سے میزبان کو بطور ہدیہ پیش کرتے ہیں۔ اس کو مقامی زبان میں "المقبال" یا " العانیہ" کا نام دیا جاتا ہے۔

مذکورہ وڈیو میں ظاہر ہوتا ہے کہ ایک سعودی قبیلہ مملکت میں مقیم پاکستانی شہری کی شادی میں شرکت کے لیے پہنچا اور قبیلے کے افراد نے رواج کے مطابق مبارک باد کے بعد دولہا کو "عانیہ" (کی رقم) پیش کی جس کو وڈیو میں "نفعہ" کہا گیا ہے۔ تاہم مہمانوں کے استقبال میں کھڑے پاکستانی مقیم شہری قبائلی افراد کا خیر مقدم کرتے ہوئے بلند آواز میں جواب دیا " آپ لوگ ہمارے سروں کے تاج ہیں مگر جہاں تک نفعہ کی بات ہے تو وہ میں ہر گز نہیں لوں گا"۔