.

یمن مذاکرات کی مشروط میزبانی کے لیے تیار ہیں : کویت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

کویت نے اعلان کیا ہے کہ وہ یمن کے تنازع کے فریقوں کی میزبانی کرنے کے لیے تیار ہے بشرط یہ کہ اس کا مقصد بحران کے خاتمے کے لیے کسی معاہدے تک پہنچنا ہو نہ کہ مشاورت کا ایک نیا میراتھن دور جیسا کہ گزشتہ برس ہوا۔

کویت کے نائب وزیر خارجہ خالد الجار اللہ کے مطابق ان کا ملک یمن کی صورت حال کی درستی سے وابسطہ ہے اور اس نے گزشتہ برس خاص طور پر 3 ماہ تک امن مشاورت کے لیے میزبانی کی ذمے داری انجام دی۔

ادھر یمن کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی اسماعیل ولد الشیخ احمد نے امن عمل کو دوبارہ زندہ کرنے اور رمضان سے قبل جنگ بندی تک پہنچنے کے لیے نیا دورہ شروع کر دیا۔

ولد الشیخ نے دورے کی ابتدا ریاض سے کی جہاں انہوں نے یمن کی آئینی حکومت کی قیادت سے ملاقات کی اور یمن میں سیاسی تصفیے کی سرپرستی کرنے والے ممالک کے سفیروں کو حالیہ پیش رفت اور بحران کے حل سے متعلق تجاویز سے آگاہ کیا جس میں ممکنہ طور پر بعض ترامیم شامل ہیں۔

اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی سلطنت عُمان کے دارالحکومت مسقط میں باغیوں کے وفد سے بھی ملاقات کریں گے۔ مبصرین کو امید ہے کہ اس مرتبہ باغی عالمی برادری کے دباؤ کے سامنے جھک کر یمنی عوام کی تکالیف پر روک لگائیں۔